انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے زیر اہتمام آئندہ ماہ ہونے والے آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سے قبل جنوبی افریقا کی ٹیم کو انجریز کے بڑھتے ہوئے خدشات کا سامنا ہے، جہاں تجربہ کار بلے باز ڈیوڈ ملر اور سینئر فاسٹ بولر لونگی نگیڈی فٹنس مسائل کا شکار ہو گئے ہیں۔
کرکٹ ویب سائٹ کے مطابق ڈیوڈ ملر ایس اے 20 کے گروپ میچ میں پارل رائلز کی نمائندگی کرتے ہوئے فیلڈنگ کے دوران گروئن انجری کا شکار ہو گئے۔ انجری کے باعث وہ جوبرگ سپر کنگز کے خلاف 167 رنز کے ہدف کے تعاقب میں بیٹنگ کے لیے میدان میں نہ آ سکے۔ اس شکست کے نتیجے میں پارل رائلز پوائنٹس ٹیبل پر تیسرے نمبر پر آ گئے اور اب جمعرات کو سینچورین میں ایلیمینیٹر میچ میں جوبرگ سپر کنگز کا سامنا کریں گے۔
ڈیوڈ ملر ٹیم کے ساتھ سفر کر رہے ہیں اور ان کی دستیابی پر آخری لمحات میں فیصلہ کیا جائے گا۔ ان کا اس میچ میں کھیلنا یا نہ کھیلنا جنوبی افریقا کی ٹیم مینجمنٹ کے لیے ورلڈ کپ سے قبل ان کی فٹنس جانچنے میں بھی مدد دے گا۔
دوسری جانب فاسٹ بولر لونگی نگیڈی نے پریٹوریا کیپیٹلز کی جانب سے کوالیفائر میچ میں سن رائزرس ایسٹرن کیپ کے خلاف نیا گیند سنبھالی، تاہم صرف دو اوورز کرانے کے بعد میدان چھوڑ دیا۔ میچ سے قبل ان کی بائیں ٹانگ پر بھاری پٹیاں لگی ہوئی دیکھی گئیں، اگرچہ ٹیم کے بولنگ کوچ شان پولاک کے مطابق یہ ممکنہ طور پر معمولی مسئلہ تھا۔
جنوبی افریقا پہلے ہی ڈونوون فریرا سے محروم ہو سکتا ہے، جو ایس اے 20 میں کندھے کی ہڈی فریکچر ہونے کے باعث باہر ہوگئے ہیں جبکہ ٹونی ڈی زورزی کی فٹنس پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ ڈی زورزی دسمبر میں بھارت میں ہیمسٹرنگ انجری کے بعد سے کوئی میچ نہیں کھیل سکے، تاہم امکان ہے کہ وہ آئندہ ہفتے ویسٹ انڈیز کے خلاف تین ٹی ٹونٹی میچوں کی سیریز کے لیے فٹ ہو جائیں گے
۔ویسٹ انڈیز سیریز کے لیے سکواڈ کا اعلان جلد متوقع ہے، جس میں وہ کھلاڑی شامل ہو سکتے ہیں جن کی ایس اے 20 ٹیمیں پہلے ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکی ہیں۔
اس تناظر میں ایم آئی سی ٹی اور ڈی ایس جی کے کھلاڑیوں کو موقع ملنے کا امکان ہے۔رائن رکیلٹن کو بھی ورلڈ کپ کے لیے زیر غور لایا جا سکتا ہے، خاص طور پر اگر ڈی زورزی مکمل فٹ نہ ہو سکے، جبکہ ٹرسٹن سٹبز اور اوٹنئیل بارٹمین، جو ایس اے 20 کے پلے آف میں مصروف ہیں، ممکنہ متبادل سمجھے جا رہے ہیں اگر ڈیوڈ ملر یا لونگی نگیڈی کی انجری سنگین ثابت ہوئی۔
واضح رہے کہ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے سکواڈ میں کسی بھی وجہ سے 31 جنوری تک تبدیلی کی جا سکتی ہے، جبکہ اس کے بعد آئی سی سی کی ایونٹ ٹیکنیکل کمیٹی کی منظوری سے ہی ٹورنامنٹ ختم کرنے والی انجری کی صورت میں تبدیلی ممکن ہوگی۔




















