قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اسد قیصر نےعدالتوں میں انصاف کے فقدان اورعوامی حقوق پر بڑھتے ہوئے دباؤ پر شدید تشویش کا اظہارکیا ہے،انہوں نے سوال اٹھایا کہ "ہماری جائز پٹیشنز نہیں سنی جاتیں، تو ہم کہاں جائیں؟ کیا ہمیں یو این یا انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس جانا پڑے گا؟"
اسد قیصر نےمیڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ملک میں عوام کے بنیادی اور جمہوری حقوق متاثر ہو رہے ہیں اور عدالتوں پر اعتماد ختم ہونے سے ملک کا نظام چلنا ممکن نہیں،آئینی عدالت میں صرف دو پٹیشنز پیش ہونا اعتماد کے فقدان کا ثبوت ہےاتنی بڑی عدالتی عمارتیں ہوں مگر انصاف نہ ہو تو بے معنی ہیں۔
سابق اسپیکر نےعوام کو 8 فروری کو پرامن احتجاج کی کال دی اورکہا کہ یہ احتجاج بانی کے لیے نہیں بلکہ عوام کے حق کے لیے ہے،دنیا کو دکھائیں گے کہ یہاں جمہوریت نہیں رہی، جمہوریت عوام کی آزادیوں سے مشروط ہوتی ہے۔
اسدقیصر نےوکلا برادری سے انصاف کے لیے کھڑے ہونےکی اپیل کرتے ہوئےکہا کہ عدالتوں پردباؤ ڈالا جا رہا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کی مثال سب کے سامنے ہے،ہم اپنے بنیادی حقوق کی جنگ انشاءاللہ جیتیں گے۔






















