وفاقی حکومت نےپیٹرول اورہائی اسپیڈ ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کر کےعوام کو ایک بار پھر ریلیف سے محروم کر دیا ہے،تاہم قیمتیں آئندہ 15 روز کے لیے برقرار رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
ذرائع کےمطابق پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی میں 4 روپے 65 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے،جس کےبعد پیٹرول پر لیوی 79 روپے 62 پیسے سے بڑھ کر 84 روپے 27 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران پیٹرول پر لیوی میں مجموعی طور پر 24 روپے 27 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا جا چکا ہے،جو 40 فیصد سے زائد بنتا ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی میں 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ ایک سال کے دوران ڈیزل پر لیوی میں مجموعی اضافہ 16 روپے 21 پیسے فی لیٹر ہو چکا ہے، جس سے ڈیزل پر لیوی میں تقریباً 27 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل دونوں پر 2 روپے 50 پیسے فی لیٹر کاربن سپورٹ لیوی اس کے علاوہ عائد ہے۔ لیوی میں اضافے کے بعد پیٹرول پر مجموعی ٹیکسوں کی شرح بڑھ کر 105 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر ٹیکس 100 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گیا ہے، جس میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کا مارجن بھی شامل ہے۔ تاہم دونوں مصنوعات پر سیلز ٹیکس کی شرح بدستورصفر برقرار رکھی گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 141 روپےفی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت 154 روپے 64 پیسے فی لیٹر ہے۔ اس کے باوجود صارفین کو پیٹرول 253 روپے 17 پیسے اور ڈیزل 257 روپے 08 پیسے فی لیٹر میں فروخت کیا جا رہا ہے۔





















