سابق قومی کرکٹر رانا نوید الحسن نےکہا ہے کہ بگ بیش لیگ (بی بی ایل) نے انہیں سکھایا کہ آسٹریلوی کرکٹرز نہایت صاف گو اور صرف صلاحیت پر یقین رکھنے والے ہوتے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں رانا نوید الحسن نےکہا کہ بی بی ایل کا طویل عرصے تک حصہ رہنے کے باعث انہوں نے دیکھا کہ دنیا کی بڑی لیگزکس طرح کام کرتی ہیں،پاکستان میں ٹیم کلچر کے برعکس آسٹریلیا میں کھلاڑیوں کو بڑے ناموں کا کوئی خوف نہیں ہوتا اور وہاں صرف کارکردگی کو اہمیت دی جاتی ہے،جب آپ انٹرنیشنل کرکٹرز کے ساتھ کھیلتے ہیں تو آپ کو نام کے بجائے امپیکٹ کے لحاظ سے جانچا جاتا ہے۔
سابق فاسٹ بولر نےکہا کہ اسٹیو اسمتھ کا رویہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ وہ اپنے ساتھی کھلاڑیوں کو کس معیار پر پرکھتے ہیں۔ انہوں نے سڈنی سکسرز اور سڈنی تھنڈر کے درمیان میچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسٹیو اسمتھ نے بابر اعظم کی کھیلی گئی شاٹ پر رن لینے سے انکار کیا،جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہاں فیصلے صرف کھیل کی صورتحال اور اثر پذیری کو دیکھ کر کیے جاتے ہیں۔
رانا نوید الحسن نےمزید کہا کہ بابر اعظم اور محمد رضوان کو ماڈرن ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں اپنی اہلیت اور اندازِ کھیل پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کےمطابق مذکورہ میچ میں اسٹیو اسمتھ کے رن نہ لینے پر بابر اعظم ناخوش نظر آئے اور آؤٹ ہونے کے بعد انہوں نے باؤنڈری لائن پر بیٹ مارکر اپنی ناگواری کا اظہار بھی کیا۔





















