وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ مالی سال صوبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ٹیکس جمع کیا، 2024-25 میں وفاق کے محصولات 13 کھرب روپے تھے، صوبوں نے صرف 979 ارب روپے اکھٹے کیئے۔
ایکس پر پیغام میں وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی ٹیکس ٹو جی ڈی پی گیارہ اعشاریہ تین فیصد تک پہنچ چکی۔ ٹیکس کا معیشت سے تناسب کا عالمی معیار اٹھارہ فیصد ہے۔ جون دو ہزار اٹھائیس تک وفاقی ٹیکس وصولیاں پندرہ فیصد تک لے جانے کا ہدف ہے۔
گزشتہ مالی سال صوبائی ٹیکس وصولی معیشت کے محض صفر اعشاریہ آٹھ پانچ فیصد کے برابر ہے۔ صوبوں سے متوقع ٹیکس حصہ کم از کم تین فیصد ہونا چاہئے۔ خرم شہزاد کے مطابق ہدف حاصل کرنے کے لیے صوبوں کو دو ہزار اٹھائیس تک وصولیاں تین گنا کرنا ہوں گی۔ اصل مسئلہ ٹیکس بیس کا نہیں بلکہ حاصل ہونے والی آمدن کا ہے۔ مشیر خزانہ نے مزید کہا کہ اشیاء پر وفاقی ٹیکس وصولی تیرہ فیصد ہے جبکہ سروسز پر صوبائی وصولی نہایت کم ہے۔ زرعی آمدن پر بھی صوبائی وصولی صرف دو فیصد ہے۔ پاکستان میں پراپرٹی سیکٹر پر ٹیکس بھی خطے کے مقابلے میں کم ہے۔





















