لاہورہائیکورٹ نے سزائے موت کے مجرم کی اپیل منظور کرتے ہوئے بری کرنے کا حکم دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے مجرم کی اپیل منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور ملزم کو بری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
یہ فیصلہ جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس علی ضیاء باجوہ پر مشتمل بینچ نے سنایا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق معمولی تلخ کلامی کے بعد دوست کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار ملزم کے خلاف استغاثہ اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ پراسکیوشن کے اسٹار گواہ کے بیانات میں واضح تضاد پایا گیا جبکہ شواہد بھی درست انداز میں اکٹھے نہیں کیے گئے۔جسٹس فاروق حیدر نے فیصلے میں کہا کہ ملزم سے برآمد ہونے والا پستول خالی تھا اور اسے فرانزک تجزیے کے لیے بھی نہیں بھیجا گیا، جو کہ تفتیش میں سنگین خامی ہے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق تھانہ سرگودھا پولیس نے سال 2014 میں قتل کا مقدمہ درج کیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ نے 2022 میں ملزم کو سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔
عدالت عالیہ نے قرار دیا کہ استغاثہ شکوک و شبہات سے بالاتر ہو کر مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام رہا، اس لیے ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کیا جاتا ہے۔






















