امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی مذہبی حکومت کے خاتمے کا امکان موجود ہے۔
امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نےخبررساں ادارےکوانٹرویودیتےہوئےکہا ہےکہ مظاہروں کےباعث تہران کی حکومت گرسکتی ہے،ایرانی اپوزیشن رہنمارضا پہلوی اچھے انسان لگتےہیں،وہ اچھے لگتےہیں،مگرمجھے نہیں معلوم کہ وہ ایران میں کیسےقبول کیےجائیں گے،یقین نہیں کہ ایرانی عوام رضا پہلوی کی قیادت قبول کریں گے یا نہیں، امریکی صدر نےرضا پہلوی کی کھل کر حمایت سے گریز کیا۔
ایرانی اپوزیشن رہنما رضا پہلوی نے کہا کہ ایران کے نیوکلیئر فوجی پروگرام کو ختم کر دیا جائے گا،ان کے بقول دہشت گرد گروہوں کی حمایت فوری طور پر بند کر دی جائے گی،ایک آزاد ایران علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ ملکردہشت گردی،منظم جرائم، منشیات کی سمگلنگ اور انتہا پسند اسلام کے خلاف کام کرے گا۔
انہوں نےمزیدکہا سفارتکاری میں،ایران اور امریکہ کےتعلقات معمول پر آئیں گے اور امریکہ اور اس کے عوام کےساتھ دوستی بحال کی جائے گی،اسرائیل کو فوری طورپرتسلیم کیا جائےگا،وہ ابراہیم معاہدوں کو"سائرس معاہدے"میں تبدیل کرنے کی کوشش کریں گے،جو آزاد ایران، اسرائیل اورعرب دنیا کو ایک ساتھ لائے گا۔
دوسری جانب ایران نےاپنی فضائی حدودتمام پروازوں کیلئے بندکر دی، برطانیہ نےعارضی طورپر تہران میں سفارتخانہ بندکر دیا، مغربی ممالک کی اپنے شہریوں کو ایران سےفوری نکلنےکی ہدایت کردی۔
برطانوی خبررساں ادارےکادعویٰ ہےکہ ایران پرامریکاکےفوری حملےکاخطرہ بڑھ گیا،تمام اشارےظاہرکرتےہیں عنقریب حملہ ہوسکتاہے،اچانک حملہ امریکی فوج کی حکمت عملی کاحصہ ہوگا۔




















