پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے)کی نجکاری کے بعد پہلی مرتبہ ایئرلائن کے ایئرآپریٹرز سرٹیفیکیٹ (اے او سی) کا آڈٹ انسپکشن شروع کر دیا گیا ہے۔
پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کی جانب سے جاری کیےگئے اس آڈٹ میں پی آئی اے کے فلائٹ سیفٹی نظام، طیاروں کی مینٹیننس، پائلٹس کے ریکارڈ اور ان کی تربیت کے معیار کی تفصیلی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔
ذرائع کےمطابق آڈٹ کے دوران ایئر نیوی گیشن سے متعلق ریکارڈ اور عالمی اجازت ناموں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے،سول ایوی ایشن حکام نے پی آئی اے کے تمام شعبہ جات کے سربراہان کو ہدایت کی ہے کہ مکمل اور مستند ریکارڈ آڈٹ ٹیم کو فراہم کیا جائے۔
سول ایوی ایشن ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اے او سی آڈٹ یورپ اور برطانیہ کے لیے فلائٹ آپریشن کی بحالی کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ آڈٹ کے دوران سول ایوی ایشن کے انسپکٹرز طیاروں کی مینٹیننس، سیفٹی مینجمنٹ سسٹم، فلائٹ آپریشنز، مالی حالت اور کسٹمر سروس کے معیار کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔
ذرائع کےمطابق پانچ روزہ آڈٹ انسپکشن میں تمام حفاظتی اور آپریشنل پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔ پی آئی اے کا یہ آڈٹ انسپکشن 16 جنوری تک جاری رہے گا۔
دوسری جانب سول ایوی ایشن حکام نے پی آئی اے کے اے او سی آڈٹ انسپکشن شروع ہونے کی باضابطہ تصدیق بھی کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق آڈٹ کی کامیاب تکمیل پی آئی اے کی بین الاقوامی پروازوں کے اعتماد کی بحالی میں اہم کردار ادا کرے گی۔






















