لاہورہائیکورٹ نے کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 پر فوری عملدرآمد روکنے کی استدعا مسترد کردی۔عدالت نے فریقین کو دلائل کے لیے طلب کرتے ہوئے کارروائی 16 جنوری تک ملتوی کردی۔
لاہورہائیکورٹ کے جسٹس اویس خالد نے جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 آئین کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے، پتنگ بازی خونی کھیل ہے اس کی اجازت دینا شہریوں کی زندگی خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت کائٹ فلائنگ ایکٹ کو کالعدم قرار دے اور درخواست کے حتمی فیصلے تک ایکٹ پر عملدرآمد روکنے کا حکم دے۔ عدالتی حکم پر درخواست گزار نے کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کو فریق بنادیا۔






















