لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں زیرِتعلیم طالبہ کے اقدامِ خودکشی کے واقعے کو پولیس نے ذاتی نوعیت کا معاملہ قرار دے دیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق تفتیش میں شامل نوجوان کو کلیئر کر دیا گیا ہے جبکہ واقعے سے متعلق کسی کو خودکشی پر اکسانے کے شواہد نہیں مل سکے، اسی لیے تاحال مقدمہ بھی درج نہیں کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے طالبہ کا کال ریکارڈ اور دیگر شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں۔ متاثرہ طالبہ کی حالت بہتر ہونے پر اس کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔ تفتیش حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔
ادھر جنرل اسپتال میں زیرِ علاج طالبہ کے حوالے سے میڈیکل بورڈ نے دو روز بعد ریڑھ کی ہڈی کی سرجری کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق مکمل معائنے کے بعد سرجری کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے۔
اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نیورو سرجنز نے طالبہ کی دماغی حالت کو تسلی بخش قرار دیا ہے، تاہم مریضہ کو احتیاطی طور پر اہم نفسیاتی ادویات دی جا رہی ہیں۔





















