وزیراعظم شہباز شریف نے کوئٹہ میں سیاسی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کودرپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مل بیٹھ کر کام کرینگے ، بلوچستان جغرافیائی لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے ، بلوچستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے وفاق اور صوبے کو ملکر آگے بڑھنا ہو گا، افواج اور سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں کے باعث ملکی دفاع مضبوط ہوا۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہناتھا کہ بلوچستان کو ترقی کے قومی دھارے میں شامل کیا جا رہا ہے، دانش اسکولز اور زرعی اصلاحات سے قومی دھارےمیں شامل کیا جا رہا ہے، صوبائی حکومت بلوچستان کے عوام کی خدمت میں مصروف ہے جوخوش آئندہے، خیبرپختونخوا کی طرح بلوچستان بھی دہشت گردی سے شدید متاثر ہوا ، دہشتگردی کو جڑ سے اُکھاڑنے کیلئےافواج کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں، افواج ،پولیس،ایف سی، رینجرز،لیویز اور شہریوں کی قربانیاں سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی۔
ان کا کہناتھا کہ فتنہ الخوارج کے خلاف جنگ جاری ہے ، بعض ہمسایہ ممالک کی جانب سے دہشتگردوں کی معاونت جاری ہے، پختہ عزم ہے دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھا جائے گا، فیلڈ مارشل،افواج دہشتگردی کے خلاف جنگ کی قیادت کر رہےہیں ، 6 مئی کو بھارت کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مؤثر قیادت کی، دشمن کو جوسبق سکھایا وہ تاریخ میں یاد رکھاجائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے این ایف سی ایوارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2010میں این ایف سی ایوارڈکےوقت بلوچستان کے وزیراعلیٰ نواب محمداسلم رئیسانی تھے، این ایف سی پر ہمارے کئی نشستیں ہوئی تھیں، اُس دورمیں نوازشریف ،آصف زرداری کےتعاون سےوسائل کی تقسیم ہوئی، اُس وقت کےوزیراعظم یوسف رضاگیلانی اور وزرائےاعلیٰ کے تعاون سے تقسیم ممکن ہوئی، اس وقت کےوزیراعلیٰ بلوچستان کا مطالبہ جائزہ تھا، زیادہ فاصلےکی وجہ سےوسائل زیادہ استعمال ہونے تھے، پنجاب نے اپنے حصے سے سالانہ11 ارب بلوچستان کو دیئے ۔
وزیراعظم کا کہناتھا کہ این ایف سی ایوارڈ گزشتہ 16سال سے نافذ العمل ہے، نئے این ایف سی ایوارڈز کیلئے کمیٹیاں کام کررہی ہیں، بات بھائیوں اور خاندان کی ہو تو مل بیٹھ کر فیصلے کیے جاتےہیں، وفاق کو مضبوط بنانے کے ساتھ صوبوں کے درمیان فاصلے ختم کرنا ہو گے، کوئٹہ کراچی شاہراہ کا سنگ بنیاد رکھا جا رہا ہے ، کوئٹہ کراچی شاہراہ بہترین سڑک ہوگی،حادثات میں کمی ہوگی، یہ بھائی چارے اور قومی یکجہتی کی مثال ہے ۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ایک وقت میں5دانش سکولزقائم کیے جا رہےہیں ،قلعہ سیف اللہ سے تربت تک بچےاور بچیاں معیاری تعلیم حاصل کریں گے ، ترقی اور خوشحالی کا سفر ملکر آگے بڑھانا ہے ، مشاورت کے ذریعے تمام چیلنجزکا حل تلاش کیا جائے گا، نواز شریف نے ہمیشہ بلوچستان کی ترقی وخوشحالی میں بھرپور دلچسپی لی ، وفاق صوبے کے ساتھ ملکرترقی وخوشحالی کاسفر آگے لے کر جائےگا۔
شہبازشریف نے کہا کہ خوشی ہے زرعی ٹیوب ویلوں کی سولرپرمنتقلی خوش اسلوبی کے ساتھ مکمل ہوئی۔ سال 2022ء میں سیلاب سے بلوچستان میں تباہی ہوئی تو وفاقی حکومت نے ورلڈ بینک سے 400 ملین ڈالرز کے فنڈز حاصل کیے جو صوبے کی بحالی پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا۔



















