مہنگائی اور دیگر وجوہات کے باعث شہریوں کی غذائی اشیا کے استعمال میں نمایاں کمی آگئی۔ ٹماٹر کے سوا تمام اشیاء کی کھپت کم ہوگئی۔
دوہزار اٹھارہ انیس سے دوہزار چوبیس پچیس کے دوران شہریوں کی خوراک کے استعمال میں واضح کمی دیکھی گئی ہے ۔ پانچ سال میں گندم اور آٹے کی فی کس ماہانہ کھپت 7 کلو سے کم ہو کر 6.65 کلو ہو گئی۔ چاول کا استعمال 1.06 کلو سے کم ہو کر 1.8 کلو، جبکہ دالوں کی کھپت 0.35 کلو سے گھٹ کر 0.26 کلو ہوگئی۔
دودھ کی فی کس ماہانہ کھپت 6.80 لیٹر سے کم ہو کر 6.15 لیٹر ریکارڈ کی گئی۔ کھانے کے تیل کی کھپت 0.32 لیٹر سے گھٹ کر 0.28 لیٹر ہو گئی۔
مٹن کی کھپت صفر اعشاریہ صفر چھ کلو سے کم ہو کر صفر اعشاریہ صفر پانچ کلو، بیف صفر اعشاریہ انیس کلو سے گھٹ کر صفر اعشاریہ گیارہ کلو، اور چکن صفر اعشاریہ چھتیس کلو سے کم ہو کر صفر اعشاریہ چون کلو ہو گئی۔
انڈوں کی تعداد تین اعشاریہ صفر چار سے گھٹ کر دو اعشاریہ اٹھاسی رہی، آلو کی کھپت ایک اعشاریہ ستائیس کلو سے کم ہو کر ایک اعشاریہ سترہ کلو ہوگئی۔
ٹماٹر واحد غذا ہے جس کا استعمال بڑھا، صفر اعشاریہ اکتالیس کلو سے بڑھ کر صفر اعشاریہ پچانوے کلو ہوا۔ پیاز کی کھپت صفر اعشاریہ پچانوے کلو سے گھٹ کر صفر اعشاریہ پچاسی کلو، چینی ایک اعشاریہ اٹھائیس کلو سے کم ہو کر ایک اعشاریہ بائیس کلو، اور چائے کی کھپت چھیاسی اعشاریہ پینتالیس گرام ریکارڈ کی گئی۔



















