فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کہاہے کہ برآمد کنندگان کے انکم ٹیکس گوشواروں کی جانچ پڑتال کے ذریعہ ناجائز یا غیر منصفانہ ٹیکس عائدکرنے کا تاثر غلط ، بے بنیاداورحقائق کے منافی ہے،ایف بی آرمنصفانہ ٹیکس نظام، ٹیکس دہندگان کی سہولت کاری، اور ٹیکس قوانین کے نفاذ کو قانونی، شفاف اور پیشہ ورانہ انداز میں یقینی بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
ترجمان ایف بی آر نے برآمد کنندگان کے انکم ٹیکس گوشواروں کی جانچ پڑتال سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہاہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک خط گردش کر رہا ہے جسے ایف بی آر سے منسوب کیا جا رہا ہے اور اس سے یہ تاثر لیاجارہاہے کہ برآمد کنندگان کے انکم ٹیکس گوشواروں کی جانچ پڑتال کا مقصد ناجائز یا غیر منصفانہ ٹیکس عائد کرنا ہے، یہ تاثر غلط ، بے بنیاداورحقائق کے منافی ہے۔
ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ کہ برآمد کنندگان سے متعلق قانونی فریم ورک میں فنانس ایکٹ 2024 کے ذریعے ترمیم کی گئی جس کے تحت برآمد کنندگان پر لاگو نظام کو فائنل ٹیکس رجیم سے تبدیل کر کے کم از کم ٹیکس رجیم کر دیا گیا، اس تبدیلی کا انعکاس ٹیکس سال 2025 کے انکم ٹیکس گوشواروں میں ہونا لازم ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ کسی بھی ممکنہ نیک نیتی پر مبنی یا دیگر نوعیت کی غلطیوں کے خدشے کو کم کرنے کے لیے فیلڈ فارمیشنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گوشواروں کا جائزہ لیں اور جہاں کہیں بھی قانونی عدم مطابقت کی نشاندہی ہو، وہاں قانون کے مطابق ان پر کارروائی اور پراسیسنگ کی جائے، انکم ٹیکس گوشواروں کی ڈیسک آڈٹ کے ذریعے جانچ پڑتال اور ٹیکس قوانین کی تعمیل کو یقینی بنانا ایف بی آر کی آئینی اور بنیادی ذمہ داری ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ کسی بھی قسم کی عدم یکسانیت، غلط استعمال یا ٹیکس دہندگان کو غیر ضروری زحمت سے بچانے کے لیے یہ عمل ایف بی آر ہیڈکوارٹرز کی نگرانی میں شروع کیا گیا ہے۔ ترجمان نے کہاکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو اس امر کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ منصفانہ ٹیکس نظام، ٹیکس دہندگان کی سہولت کاری، اور ٹیکس قوانین کے نفاذ کو قانونی، شفاف اور پیشہ ورانہ انداز میں یقینی بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔



















