ویسے تو پاکستان میں ہی بسنے والوں کی اکثریت نے کبھی کراچی نہیں دیکھا اگر کسی نے کراچی دیکھا بھی ہے تو شہر کے پھیلاﺅ، ڈر اور اپنی مصروفیات کی وجہ سے لیاری کا رُخ نہیں کر سکے، کراچی کا کلچر پاکستان کے باقی تمام صوبوں سے مختلف ہے لیکن کراچی میں بسا لیاری اپنا ایک علیحدہ کلچر رکھتا ہے وہاں کے کھانے، وہاں کے لباس، طرز زندگی، معاش سب کراچی سے بھی مختلف ہے۔
کھیل: لیاری کا جنون
دنیا میں لیاری ”منی برازیل“ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جب سورج ڈھلنے لگتا ہے، تو لیاری کی خالی جگہ سٹیڈیم میں تبدیل ہو جاتی ہے، یہاں کے بچوں کے قدموں میں جادو ہے۔ وہ ٹوٹے ہوئے جوتوں سے بھی وہ گول کرتے ہیں کہ دیکھنے والے دنگ رہ جائیں۔ ککری گراﺅنڈ میں مٹی سے اٹی ہوئی شرٹس اور ننگے پاﺅں بھاگتے بچے برازیل کی گلیوں کی یاد دلاتے ہیں۔ 1980ءکی دہائی کے آخر اور 90 کی دہائی کے آغاز میں لیاری کی گلیوں میں سٹریٹ لائٹس کے نیچے رات گئے تک بچے فٹ بال کھیلتے نظر آتے تھے اور کسی کے دل میں کوئی خوف نہیں ہوتا تھا۔ چوباروں پر بزرگ اور نوجوان ریڈیو پر ورلڈ کپ کے میچ سنتے تھے اور برازیل کی جیت پر ایسے جشن مناتے تھے جیسے وہ خود ریو ڈی جنیرو میں ہوں۔ ککری گراﺅنڈ اور پیپلز سٹیڈیم میں لڑکے، بالے اپنے ہنر کے جوہر دکھاتے تھے۔ 1985 میں حالات نے کروٹ لینا شروع کی۔ لیاری کے لوگوں نے اس مشکل وقت میں بھی اپنے فن اور اپنی ثقافت کو مرنے نہیں دیا۔ یہاں کے باسیوں نے دکھ سہے، مگر اپنی بلوچی مہمان نوازی اور مکرانی موسیقی کے سحر کو برقرار رکھا۔ فن، ثقافت اور نئی لہرآج پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں، تو مجھے فخر ہوتا ہے کہ یہاں کے نوجوانوں نے بندوق چھوڑ کر گٹار اور کیمرہ اٹھا لیا۔ اب لیاری کی دیواریں ”گینگ وار“ کے نشان نہیں بلکہ خوبصورت سٹریٹ آرٹ پیش کرتی ہیں۔ لیوا رقص کو نوجوان جدید موسیقی (Rap) کے ساتھ ملا کر پوری دنیا میں لیاری کا نام روشن کر رہا ہے۔ اب یہاں کے کیفے میں بیٹھ کر نوجوان سٹارٹ اپس اور تعلیم کی باتیں کرتے ہیں۔
گینگ وار: ایک المناک کہانی
میرا تعلق پنجاب سے ہے اور کراچی مسلسل آتے جاتے 20 برس گزر چکے ہیں اس دوران کئی ایسی چیزیں دیکھنے کو ملیں جو وہاں کے لوگوں کیلئے تو ہو سکتا ہے نارمل کا درجہ اختیار کر گئی ہوں لیکن میرے جیسے غیر مقامی کیلئے بالکل نئی تھیں، پہلی مرتبہ جب کراچی گیا تو لیاری میں رہائش اختیار کی جہاں کا کلچر دنگ کر دینے والا تھا، یہ وہی دور تھا جب گینگ وار اپنا سر اُٹھا رہی تھی اس سب کے باوجود وہاں غیر مقامی افراد کیلئے ہر کسی کے دل کے دروازے کھلے تھے۔ لیکن بدقسمتی سے بعدازاں یہی لیاری ایک ایسی خونریز جنگ کا مرکز بن گیا جسے آج ہم لیاری گینگ وار کے نام سے جانتے ہیں۔ اس گینگ وار نے نہ صرف لیاری بلکہ پورے کراچی کو خوف، بدامنی اور تباہی کی لپیٹ میں لے لیا۔
لیاری کی صورتحال
لیاری شروع سے ہی ایک غریب مگر باہمت آبادی پر مشتمل علاقہ رہا ہے۔ یہاں زیادہ تر مزدور طبقہ، ماہی گیر، رکشہ ڈرائیور اور چھوٹے کاروباری افراد رہتے تھے۔ غربت، بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کی کمی کے باوجود یہاں کے لوگ پرامن زندگی گزار رہے تھے۔ تاہم بے روزگاری میں اضافہ، ناکافی تعلیمی سہولیات، نوجوانوں میں مایوسی نے آہستہ آہستہ جرائم کو پنپنے کیلئے جگہ دی۔
1980 اور 1990 کی دہائی میں لیاری میں چھوٹے موٹے جرائم پہلے سے موجود تھے، جن میں جوا، منشیات، چوری، اسلحے کی غیر قانونی خرید و فروخت شامل ہے۔ یہ جرائم شروع میں محدود پیمانے پر تھے، لیکن حکومتی عدم توجہ اور کمزور قانون نافذ کرنے کے باعث یہ جرائم بڑھتے چلے گئے۔ نوجوان جو روزگار اور تعلیم سے محروم تھے، آسان پیسے کے لالچ میں ان سرگرمیوں کا حصہ بننے لگے۔
لیاری گینگ وار کا آغاز
لیاری گینگ وار کا باقاعدہ آغاز 2004 سے 2005 کے درمیان ہوا۔ ابتدا میں یہ صرف چند جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان اثر و رسوخ کی لڑائی تھی۔ ہر گروہ چاہتا تھا کہ منشیات کی فروخت پر اس کا کنٹرول ہو، بھتہ خوری کے ذریعے زیادہ آمدن حاصل کی جائے، علاقے میں اس کی بالادستی قائم ہو، یہ معمولی جھگڑے وقت کے ساتھ شدید دشمنی میں بدل گئے اور پھر کھلی جنگ شروع ہو گئی۔ گینگسٹرز نے پولیس اہلکاروں کی طرح ہر علاقے میں اپنے گینگسٹرز کو تعینات کرنا شروع کر دیا، اس وقت لیاری کی ہر گلی میں مختلف گینگز کے لڑکے بندوق تھامے نظر آتے جنہیں مقامی لوگ ”لالہ“ کے نام سے جانتے تھے۔ ان کا مخصوص حلیہ دور سے ہی ان کی پہچان کرا دیتا تھا سکس پاکٹ ٹراﺅزر اور ٹی شرٹ میں ملبوث مکرانی لڑکوں کیلئے بھی بھرتی کے اصول وضع تھے، انہیں روزانہ سکیورٹی کے فرائض ادا کرنے کی مد میں 500 سے ایک ہزار روپے ملتا جبکہ اسلحہ بھی فراہم کیا جاتا اور شرط عائد کی جاتی کہ یہ لڑکے نہ اپنے علاقہ میں منشیات فروخت کریں گے نہ ڈکیتی اور دوسرا کوئی غیر قانونی کام، رحمان کی اپنے علاقہ میں دہشت کا اندازہ اس چھوٹے سے واقعہ سے لگایا جا سکتا کہ جب بینظیر بھٹو کا قتل ہوا تو ملک بھر میں فسادات پھوٹ پڑے، لوٹ مار ہوئی، واقعات کے 2 روز بعد رحمان منظر عام پر آیا اور علاقہ میں منادی کرائی کہ لوٹ مار کا سامان واپس کیا جائے اور کسی فلمی سین کی طرح وہاں کے مکینوں نے لوٹا ہوا سامان واپس کردیا۔
لیاری کے علاقے کلاکوٹ کی افشانی گلی کے دو بھائیوں شیر محمد (شیرو) اور داد محمد (دادل، رحمان بلوچ کے والد) نے منشیات کے کاروبار کو پھیلانے اور طاقت حاصل کرنے کے لیے اپنا گروہ منظّم کرنا شروع کیا۔ دوسری جانب منشیات ہی کے کاروبار سے منسلک اقبال عرف بابو ڈکیت کا گروہ بھی اسی لیاری کے علاقے کلری اور آس پاس کے محلّوں میں فعال تھا۔ اسی زمانے میں حاجی لالو اپنے چھ سات بیٹوں کے ساتھ جن میں ارشد پپّو اور یاسر عرفات بھی شامل تھے ایک مضبوط گروہ چلا رہا تھا۔ حاجی لالو جہان آباد میں شیر شاہ قبرستان کے علاقے میں اپنا پتھاریداری، منشیات اور بھتّے کا وہ کاروبار چلاتا تھا جو آگے چل کر اغوا برائے تاوان کے منافع بخش دھندے سے جڑ گیا۔ پیسے اور طاقت کے حصول کی رسّہ کشی جلد ہی مسلح تصادم میں ڈھلی اور رحمان بلوچ کا باپ دادل، بابو ڈکیت کے ہاتھوں مارا گیا اور دادل کی موت کے بعد رحمان بلوچ کو حاجی لالو نے اپنی سرپرستی میں لے لیا۔ یہیں سے رحمان بلوچ بے رحمی اور قتل و غارت کے راستے کا ایسا مسافر بنا جس نے پہلے تو اپنی ماں کو مبینہ طور پر خود گولی مار کر قتل کیا اور پھر کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ قتل و غارت اور غنڈہ گردی کا بازار گرم کر دینے والے رحمان نے ایک روز بابو ڈکیت کو بھی مار کر اپنے باپ کے قتل کا بدلہ لیا۔
حاجی لالو کے گروہ میں رحمان بلوچ اور حاجی لالو کے بیٹے ارشد پپّو اور یاسر عرفات نے مل کر جرم کی سلطنت کو ناقابل تسخیر بنا دیا۔ رحمان اور حاجی لالو کا تعلق اس قدر گہرا تھا کہ حاجی لالو کے بیٹے یاسر عرفات اور رحمان دونوں کی شادی گولیمار کے سیٹھ یوسف کی بیٹیوں سے ہوئی۔ مگر جلد ہی کاروباری حسد اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کھینچا تانی میں ایک روز رحمان کی کھٹ پٹ حاجی لالو اور اس کے بیٹوں سے ہی ہو گئی۔ رحمان کو اندازہ ہوگیا کہ حاجی لالو کے زیر اثر رہتے ہوئے جرم کی اس دنیا میں وہ اپنا الگ مقام نہیں بنا سکتا۔ اپنے ہی گروہ میں محاذ آرائی کے اس ماحول میں رحمان ایک روز کھلے عام لالو کی مخالفت پر اتر آیا اور اسی گرما گرمی نے لالو اور رحمان کی راہیں الگ کر دیں۔
محاذ آرائی کے اس رویّے نے دشمنی کی شکل اختیار کی تو لالو کے بیٹے ارشد پپّو نے کلاکوٹ میں رحمان کو راستے سے ہٹانے کی کوشش کی۔ قسمت کا دھنی رحمان بچ تو نکلا مگر ارشد پپّو کے غیض کا رخ اس کے رشتہ داروں کی جانب ہوا اور ارشد پپّو کے ہاتھوں رحمان کے رشتہ دار مارے جانے لگے۔
ادھر رحمان نے بچی کھچی طاقت مجتمع کرکے جواباً ارشد پپّو کے رشتہ داروں پر حملوں کا آغاز کیا جن میں بلوچ اتحاد کے رہنما اور لیاری کی معروف شخصیت انور بھائی جان بھی مارے گئے۔ اسی جنگ میں ارشد پپّو نے ایک دن بہت ہی فلمی انداز میں حب چوکی کے پاس رحمان کے چاچا کو قتل کیا۔ ارشد پپّو اور اس کے باپ حاجی لالو کے گروہ نے چن چن کر رحمان کے کاروباری مفادات کو بھی نشانہ بنانا شروع کیا۔ایک وقت ایسا بھی آیا کہ رحمان کو لیاری چھوڑ کر بلوچستان جانا پڑا اور تب تک واپس نہیں آسکا جب تک ارشد پپّو گرفتار ہو کر جیل نہیں چلا گیا۔ پھر رحمٰن لیاری واپس آیا۔
عزیر اپنی زندگی کے آغاز پر جرم و سزا کی اس دنیا سے بالکل الگ تھلگ رہا۔ وہ لیاری جنرل ہاسپٹل میں وارڈ بوائے کی ملازمت کرتا تھا اور عزیر کا باپ تو اسے کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) میں فٹبالر کی حیثیت سے ملازمت دلوانا چاہتا تھا۔ مشترکہ دشمن ارشد پپّو کے ہاتھوں عزیر کے باپ کے قتل کے بعد رحمان نے عزیر کو بالکل ویسے ہی اپنی سرپرستی میں لے لیا جیسے کبھی حاجی لالو نے خود رحمان کی سرپرستی کی تھی۔
دیکھتے دیکھتے لیاری پر رحمان کی گرفت اس قدر مضبوط ہوئی کہ کون کونسلر بنے گا اور کون ضلعی ناظم یہ فیصلے بھی رحمان بلوچ کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتے تھے۔ پانی سر سے گزرنے کے بعد رحمان بلوچ پولیس مقابلے میں چوہدری اسلم کے ہاتھوں مارا گیا اور قصہ اختتام پذیر ہوا۔ رحمان کی ہلاکت کے بعد گینگ نے عزیر بلوچ کو سردار بنانے کا فیصلہ کیا۔ عزیر نے گروہ کی سربراہی سنبھالی تو مارا ماری کا کام بابا لاڈلا کی سربراہی میں دیگر نمائندوں سرداروں کے سپرد ہوا۔ کچھ علاقے اور اختیارات استاد تاجو کے سپرد ہوئے اور رحمان کے گروہ کے تمام سرداروں نے ایک طرح سے عزیر کی بیعت کر لی۔
عزیر نے گروہ کے تمام جنگجو سرداروں کو ایک ایک کر کے بدلنا شروع کیا۔ بابا لاڈلا کو محسوس ہوا کہ عزیر اپنی گرفت مضبوط کر رہا ہے تو اس نے اپنے ہی سردار یعنی عزیر بلوچ اور اس کے مقرر کردہ سرداروں کی مخالفت کا راستہ چنا۔عزیز بلوچ کے مقامی کمانڈر بھی بابا لاڈلا سے ڈرتے تھے کیونکہ وہ ظالم بھی بہت تھا۔ عزیر کا گروہ پاوں پھیلا کر شہر کی دوسری بڑی جماعت کے علاقوں سے بھتّہ خوری شروع کر چکا تھا۔ لیاری کی سرحدوں سے جڑے علاقوں پلازہ ، تبت سینٹر، صدر، آرام باغ، گارڈن، پاک کالونی، نشتر روڈ اور دیگر کئی علاقوں میں لیاری گینگ وار کے کارندے بھتّے کی پرچیاں بازاروں میں بانٹ رہے تھے۔ پھر ان علاقوں میں بلوچوں کے خلاف تشدد میں تیزی آئی اور رنچھوڑ لائن سمیت کئی علاقوں میں بلوچوں کی لاشیں ملنے لگیں۔ دوسری جانب نشتر روڈ اور دھوبی گھاٹ جیسے علاقوں میں مسافر بس سے لوگوں کو زبان کی بنیاد پر شناخت کر کے اتارے جانے اور اغوا اور بدترین تشدد کر کے قتل کر دینے کی وارداتیں شروع ہوئیں۔ شہر میں لیاری کے علاوہ بلوچ آبادیوں میں رحمان کی جگہ سردار بننے والے عزیر بلوچ نے اپنی طاقت مضبوط کرنی شروع کی اور ملیر سے مواچھ گوٹھ تک، لیاقت آباد، بلوچ پاڑہ سے خاموش کالونی تک اور جہانگیر روڈ سے اورنگی تک کی بلوچ آبادیوں پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے منظم اتحاد بنا لیے۔
علاقہ گیری کا یہ کھیل دو حصّوں میں بٹ گیا تھا۔ ایک گروہ نے عزیر کی سیاسی اور عسکری حمایت شروع کی اور دوسرا گروہ وہ تھا جس میں ایم کیو ایم کی عسکری قیادت بھی شامل رہی اور اس گروہ نے عزیر کے سب سے بڑے مخالف یعنی ارشد پپّو اور لیاری کےایک اور وار لارڈ غفار ذکری کی پشت پناہی شروع کر دی۔ بلوچستان کے علاقے تربت سے تعلق رکھنے والا غفار ذکری کسی زمانے میں رحمان کا حامی رہا تھا مگر تب تک وہ رحمان کے گروہ کا مخالف ہو چکا تھا اور عیدو لین اور ذکری پاڑہ جیسے علاقوں میں قدم جما چکا تھا۔
اسی دوران ارشد پپّو جیل سے چھوٹ کر آ چکا تھا۔ بجھتے چراغ کی طرح ارشد پپّو نے اپنے اور اپنے والد حاجی لالو کے بکھر جانے والے گینگ کو منظم کرنے اور عزیر اور رحمان کے گینگ کے مقابلے پر لانے کی سر توڑ کوشش کی مگر اس وقت تک عزیر کا گینگ مکمل طور پر غالب آ چکا تھا اور مخالفین کی گلا کٹی لاشیں پورے علاقے سے ملنے لگیں۔ ایسے ماحول میں سیاست اور بندوق کی طاقت سے پوری طرح مسلح عزیر کو اپنے باپ کے قتل کا بدلہ لینے کا موقع تب میسر آیا جب ارشد پپّو جیل سے چھوٹ کر آیا۔ارشد پپّو حاجی لالو کا وہی بیٹا تھا جس نے رحمان کی مخالفت میں عزیر کے باپ فیضو کو قتل کیا تھا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق پپّو کو ڈیفینس کے علاقے پی این ایس شفا کے سامنے شیرو کے گھر سے اٹھایا گیا۔ شیرو پپّو کا خاص آدمی تھا اور اس کا بھائی حامد بھی وہیں تھا ۔ بدلے کی آگ میں جلتے ہجوم میں زیادہ تر افراد خود پپّو کے ہاتھوں اپنے پیاروں اور ساتھیوں کو کھو چکے تھے۔ زندہ ارشد پپّو کی انگلیاں کاٹی گئیں، ہاتھ پیر کاٹے گئے۔ چھری، چاقو، خنجر جس کے ہاتھ میں جو ہتھیار تھا سب استعمال ہوئے۔ کسی نے پتھر مارا، کسی نے ڈنڈا۔ ارشد پپّو اس حال میں بھی قاتلوں کو گالیاں بکتا رہا۔ پاکستانی اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق انتقام کی آگ میں جلتے مشتعل قاتلوں نے تشدد کے بعد ارشد پپّو کی گردن تن سے جدا کر دی۔ اس کے کٹے ہوئے سر کو ٹھوکریں ماری گئیں (جسے بعض اخبارات میں فٹبال کھیلنا لکھا گیا) لاش کے ٹکڑے کر دیئے گئے اور بالآخر کٹی پھٹی لاش کے باقی ماندہ ٹکڑوں پر پیٹرول ڈال کر آگ لگا دی گئی۔ عزیر کے باپ فیضو کو قتل کرنے والے ارشد پپّو کا یہ انجام ہوا۔ گینگ چھوڑ کر دشمن بن جانے والے عزیر بلوچ کے دوسرے مخالف بابا لاڈلا کا انجام بھی ظاہر ہے، اچھا نہیں تھا۔ دبئی چوک کلری کے رہائشی بابا لاڈلا پر ایک فٹبال میچ کے دوران بم سے حملہ ہوا۔ بابا لاڈلا توبچ گیا مگر چھ، سات لوگ مارے گئے۔
دو سو سے زائد افراد کے گینگ کے سردار بابا لاڈلا نے بدلے میں عزیر کے انتہائی قریبی ساتھی ظفر بلوچ کو مار دیا ۔ عزیر اور بابا کے کمانڈر بٹ گئے۔صورتحال کی نزاکت کا احساس ہوتے ہی عزیر نے علاقے سے نکل جانے میں عافیت جانی اور ایک روز لیاری سے نکل گیا۔ عزیر اور تاجو نے تو اپنے علاقائی کمانڈرز تک کو نہیں بتایا اور خاموشی سے لیاری سے نکل گئے۔ لیاری میں آئے دن گینگ وار لارڈز کی گرفتاریوں کے لیے چھاپوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ بابا لاڈلا اور غفار ذکری جیسے لوگ ایسے ہی چھاپوں میں گرفتاری سے بچنے کے لیے مقابلے کے دوران مارے جانے لگے اور آہستہ آہستہ لیاری پر قابض گینگ وار کی گرفت ڈھیلی پڑنے لگی۔ ان کا صفایا بالکل اسی انداز سے ہوا جیسے رحمان مارا گیا تھا۔ کئی وار لارڈز اور ان کے گینگز کے ارکان اس دوران مارے گئے مگر عزیر پہلے بلوچستان کے راستے ایران اور بالآخر دبئی جا پہنچا۔2013 کے اختتام تک ہی عزیر جعلی ایرانی پاسپورٹ پر دبئی پہنچا تھا، جعلی ایرانی شناختی دستاویزات اور سفری کاغذات استعمال کرتے ہوئے۔ عزیز بلوچ تا احال سکیورٹی اداروں کی تحویل میں ہے اور اس پر کئی کیسز چل رہے ہیں جبکہ رحمان ڈکیت کا بیٹا اور جانشین سارابان بلوچ، نبی بخش پولیس کے ہاتھوں مبینہ مقابلے میں مارا جا چکا ہے۔
لیاری کی بحالی
آج لیاری دوبارہ اپنی پہچان حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کھیلوں کی سرگرمیاں بحال ہو رہی ہیں، نوجوان مثبت سرگرمیوں کی طرف آ رہے ہیں، امن قائم ہے مگر یادیں باقی ہیں لوگ چاہتے ہیں کہ لیاری کو دوبارہ صرف اس کے ٹیلنٹ سے پہچانا جائے۔ لیاری گینگ وار پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ یہ کہانی صرف گینگز کی نہیں بلکہ محرومی، ناانصافی اور ریاستی ناکامی کی بھی کہانی ہے۔ لیاری نے بہت خون دیکھا، بہت نقصان اٹھایا، مگر آج بھی امید زندہ ہے کہ یہ علاقہ دوبارہ امن، خوشحالی اور ترقی کی علامت بنے گا۔




















