لیاری گینگ وار کا سرغنہ رحمان ڈکیت کون؟ آنکھوں دیکھا احوال
لیاری گینگ وار کا باقاعدہ آغاز 2004 سے 2005 کے درمیان ہوا۔ ابتدا میں یہ صرف چند جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان اثر و رسوخ کی لڑائی تھی
کے پی حکومت اور وزیر اعلی کے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے،شفیع اللہ جان
پاکستان ہاکی فیڈریشن نےقومی ٹیموں کےنئے مینجمنٹ پینلزکا اعلان کردیا
ایران کے ساتھ مذاکرات کا اگلا دور 2 دن میں پاکستان میں ہوسکتا ہے: امریکی صدر
ملک کےماحولیاتی نمونوں میں پولیووائرس میں کمی آناشروع
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ترکیہ،سعودی عرب اور مصر کے سینئر سفارتکاروں کی ملاقات
حج 2026 کیلئے وزارت مذہبی امور کی ایڈوانس ٹیم سعودی عرب روانہ
منی چینجرز سے پیسہ باہر بھیجنے والے معافی کے حقدار نہیں : محسن نقوی
آئی ایم ایف نےورلڈاکنامک آؤٹ لک رپورٹ 2026 جاری کر دی
این ڈی ایم اے نے مزید بارش اور ژالہ باری کا الرٹ جاری کر دیا
لیاری گینگ وار کا باقاعدہ آغاز 2004 سے 2005 کے درمیان ہوا۔ ابتدا میں یہ صرف چند جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان اثر و رسوخ کی لڑائی تھی
سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر جعلی خبروں اور حکیمی ٹوٹکے ہمارے بزرگوں کی روزمرہ زندگیوں کومتاثر کر رہے ہیں
بھلے وقت میں ٹی وی پر تمام طبقات کی نمائندگی ہوتی تھی غریب، کسان، ہاری، مزدور، چھوٹے سرکاری ملازمین کی زندگی کی عکس بندی بھی کی جاتی تھی