لیاری گینگ وار کا سرغنہ رحمان ڈکیت کون؟ آنکھوں دیکھا احوال
لیاری گینگ وار کا باقاعدہ آغاز 2004 سے 2005 کے درمیان ہوا۔ ابتدا میں یہ صرف چند جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان اثر و رسوخ کی لڑائی تھی
نجی یونیورسٹی میں خودکشی کرنیوالی طالبہ کی ریڑھ کی ہڈی کا آپریشن کردیا گیا
ایران میں پرتشدد مظاہرے، جاں بحق افراد کی تعداد 538 ہوگئی
خیبرپختونخوا حکومت کا ضم اضلاع میں سولر منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ
وفاقی آئینی عدالت وفاقی شرعی عدالت کی عمارت میں منتقل ہوگئی
امریکہ ایران کے لیے ’انتہائی مضبوط آپشنز‘ پر غور کر رہا ہے،امریکی صدر
اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، ہنڈریڈ انڈیکس 1375 پوائنٹس گرگیا
ملک بھر میں کڑا کے کی سردی، گھروں سے نکلنا امتحان بن گیا
خیبرپختونخوا کے شہری ترقیاتی ادروں میں مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف
بنوں: تھانہ ڈومیل کی حدود میں پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام
لیاری گینگ وار کا باقاعدہ آغاز 2004 سے 2005 کے درمیان ہوا۔ ابتدا میں یہ صرف چند جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان اثر و رسوخ کی لڑائی تھی
سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر جعلی خبروں اور حکیمی ٹوٹکے ہمارے بزرگوں کی روزمرہ زندگیوں کومتاثر کر رہے ہیں
بھلے وقت میں ٹی وی پر تمام طبقات کی نمائندگی ہوتی تھی غریب، کسان، ہاری، مزدور، چھوٹے سرکاری ملازمین کی زندگی کی عکس بندی بھی کی جاتی تھی