لیاری گینگ وار کا سرغنہ رحمان ڈکیت کون؟ آنکھوں دیکھا احوال
لیاری گینگ وار کا باقاعدہ آغاز 2004 سے 2005 کے درمیان ہوا۔ ابتدا میں یہ صرف چند جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان اثر و رسوخ کی لڑائی تھی
افغان طالبان کے درجنوں کارندے ہلاک، پاک فوج کے 2 جوان شہید، 3 زخمی
کابل سمیت افغانستان کا کوئی علاقہ ہماری دسترس سے دور نہیں،راناثنااللہ
پاک فضائیہ کی افغانستان میں کارروائی، طالبان کا ہیڈکوارٹر تباہ
افغان طالبان فرار، پاکستانی فورسز نے افغان پوسٹوں پر قومی پرچم لہرادیا
افغان طالبان رجیم کو ماضی کی پسپائیوں سے سبق سیکھنا چاہئے، وزیر اطلاعات
پاکستان کی مٹی کا ایک ایک ذرہ بنیان مرصوص بن کر لڑے گا، مریم نواز
افغان طالبان کو اندازہ نہیں کہ انہوں نے کس قوم کو للکارا ہے، فوجی جوان
پاکستان کا آپریشن غضب للحق، افغان طالبان رجیم کے 72 اہلکار ہلاک
پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال کارروائیاں ، فورسز کی جوابی کارروائی میں طالبان رجیم کو بھاری نقصان
لیاری گینگ وار کا باقاعدہ آغاز 2004 سے 2005 کے درمیان ہوا۔ ابتدا میں یہ صرف چند جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان اثر و رسوخ کی لڑائی تھی
سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر جعلی خبروں اور حکیمی ٹوٹکے ہمارے بزرگوں کی روزمرہ زندگیوں کومتاثر کر رہے ہیں
بھلے وقت میں ٹی وی پر تمام طبقات کی نمائندگی ہوتی تھی غریب، کسان، ہاری، مزدور، چھوٹے سرکاری ملازمین کی زندگی کی عکس بندی بھی کی جاتی تھی