آئی ایم ایف نےپاکستان کا کسٹمز اسٹرکچر پیچیدہ اور ناقص قرار دے دیا ہے اور رپورٹ میں کہاہے کہ ٹیرف کا موجودہ نظام چند شعبوں اوربڑی کمپنیوں کو فائدہ پہنچا رہا ہے، آٹو سیکٹر پر ایک سو پچاس فیصد، زراعت اور فوڈ سیکٹر پر سب سے زیادہ درآمدی ٹیرف عائد ہے، پاکستان نےنیشنل ٹیرف پالیسی میں اصلاحاتی عمل کی یقین دہانی کرادی
آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق ٹیرف کاموجودہ نظام چندشعبوں اور بڑی کمپنیوں کو فائدہ پہنچا رہا ہے، گزشتہ دہائیوں میں کسٹمز ڈیوٹیز بتدریج کم کرنے کے منفی اثرات سامنے آئے، بعد میں ریگولیٹری ڈیوٹیز کے بے تحاشا اضافے سے پالیسی بے اثر ہو گئی، گزشتہ مالی سال ملک کا مجموعی ٹیرف خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ رہے، زیادہ ٹیرف کے باعث برآمدات میں کمی وسائل کا غلط استعمال ہوا۔
آئی ایم ایف کا کہناتھا کہ آٹوسیکٹر،زراعت اور فوڈ سیکٹر پر سب سے زیادہ درآمدی ٹیرف عائد ہے، آٹو سیکٹر پر 150 فیصد سے بھی زیادہ درآمدی ٹیرف عائد ہے ، بلند ترین ٹیرف پاکستان کی برآمدی کارکردگی پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔
پاکستان نے نیشنل ٹیرف پالیسی 30-2025 میں اصلاحاتی عمل کی یقین دہانی کرادی ہے۔ پالیسی کے تحت ٹیرف میں بڑے پیمانے پر اصلاحاتی عمل کا پلان شامل ہے، 5سالہ ٹیرف پالیسی کے تحت کسٹمز ڈیوٹیز کی شرح بتدریج کی جائے گی۔ پاکستان نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کروائی کہ کسٹمز ڈیوٹی سلیبز 5 سے کم ہو کر 4 رہ جائیں گی۔
آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق کسٹمزڈیوٹی سلیبز میں زیادہ سے زیادہ شرح 15 فیصد تک محدود رہے گی، حکومت کے مطابق اضافی کسٹمز ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹیز مرحلہ وار ختم کی جائیں گی، پانچویں شیڈول کے تحت خصوصی ڈیوٹیز بھی مالی سال 2030 تک ختم کرنے کا پلان شامل ہے ، نیشنل ٹیرف پالیسی کے مکمل نفاذ سے اوسطاً ٹیرف تقریباً آدھا رہ جانے کا امکان ہے۔
حکومتی پلان کے مطابق اوسطاً ٹیرف 10.7 فیصد سے کم ہو کر 6.7 یا 5.3 فیصد تک آنے کی توقع ہے، ٹیرف اصلاحات سے طویل مدت میں تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی نمو کو فروغ ملے گا۔
دستاویز کے مطابق ٹیرف پالیسی کے تحت آٹو سیکٹر میں سب سے زیادہ ٹیرف میں کمی کا امکان ہے جبکہ نیشنل ٹیرف پالیسی پر عملدرآمد سے سرمایہ جاتی اشیا پر بھی نمایاں ٹیرف کمی متوقع ہے، ٹیرف اصلاحات سے طویل مدت میں تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی نمو کو فروغ ملے گا۔





















