وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی عمودی تقسیم آئینی طور پر محفوظ ہے اور اس پر کوئی نظرثانی زیر غور نہیں تاہم انہوں نے انسانی ترقی میں بہتری ، ماحولیاتی تحفظ ، موسمیاتی تبدیلی کی بنیاد پر این ایف سی فارمولے میں ترمیم کی تجویز دیدی۔
پاکستان گورننس فورم سے خطاب میں وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ انہوں نے بتایا کہ صوبوں کو حصہ دے کر وفاقی حکومت کے پاس تقریباً 11 ٹریلین روپے کی مالی گنجائش رہ جاتی ہے جبکہ مجموعی اخراجات تقریباً ساڑھے 17 ٹریلین روپے تک پہنچ چکے ہیں ۔ 50 فیصد وفاقی اخراجات قرضوں کی ادائیگی اور لگ بھگ 25 فیصد دفاع پر صرف ہوتے ہیں۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت پنشن ، تنخواہوں ، انتطامی و ترقیاتی منصوبوں سمیت زیادہ تر اخراجات قرض لے کر پورے کر رہی ہے ۔ وفاق کو پنشن، تنخواہوں، انتظامی اخراجات، ترقیاتی منصوبوں، گرانٹس اور سماجی تحفظ کے لیے زیادہ تر قرض لینا پڑتا ہے۔ یہ صورتحال پائیدار نہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ میں جامع اور دوراندیش اصلاحات کی ضرورت ہے۔ وقت آ گیا ہےکہ نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی عمودی تقسیم آئینی طور پر محفوظ ہے اور اس پر کوئی نظرثانی زیر غور نہیں۔
آزادکشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد کی مالی ذمہ داریاں بھی وفاق کے ذمے ہیں ۔ جو قابل تقسیم محاصل میں اپنے حصے کے حقدار ہیں ۔ انہوں نے زور دیا کہ ذمہ داریوں اور وسائل کے درمیان بہتر ہم آہنگی ناگزیر ہے ۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کے بغیر مالی دباؤ ترقیاتی نتائج کو متاثر کرتا رہے گا ۔
وزیر منصوبہ بندی نے آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد کو بھی این ایف سی سے حصہ دینے کی حمایت کردی ۔ غربت میں کمی ، انسانی ترقی میں بہتری ، ماحولیاتی تحفظ ، موسمیاتی تبدیلی کی بنیاد پر این ایف سی فارمولے میں ترمیم کی تجویز دیدی۔





















