بنگلادیش کی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز آل راؤنڈر شکیب الحسن نے ٹیسٹ اور ٹی ٹونٹی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان واپس لیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے بین الاقوامی کیریئر کا اختتام ایک مکمل ہوم سیریز کھیل کر کرنا چاہتے ہیں۔
سپورٹس ویب سائٹ کے مطابق 38 سالہ شکیب الحسن نے واضح کیا ہے کہ وہ باضابطہ طور پر کسی بھی فارمیٹ سے ریٹائر نہیں ہوئے۔ گزشتہ برس ستمبر میں بھارت کے خلاف دوسرے ٹیسٹ سے قبل شکیب الحسن نے فوری طور پر ٹی ٹونٹی سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا اور بتایا تھا کہ وہ جنوبی افریقاکے خلاف ہوم سیریز کے بعد ٹیسٹ کرکٹ کو بھی خیرباد کہہ دیں گے، تاہم حکومتی تبدیلی کے بعد انہیں وطن واپسی کے لیے سکیورٹی کلیئرنس نہ مل سکی۔
سابق حکومت میں رکنِ پارلیمنٹ رہنے والے شکیب الحسن ایک سال سے زائد عرصے سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور اس دوران انہوں نے بنگلادیش کے لیے کوئی میچ نہیں کھیلا۔ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے شکیب الحسن نے کہا کہ وہ اب بھی مختلف لیگز میں اس لیے کھیل رہے ہیں تاکہ فٹ رہ سکیں اور موقع ملتے ہی وطن واپس آ کر ایک مکمل سیریزٹی ٹونٹی، ون ڈے اور ٹیسٹ کھیل کر شائقین کے سامنے الوداع کہہ سکیں۔
ان کے مطابق یہ ان کا دیرینہ ارادہ ہے کہ وہ اپنے مداحوں کی محبت کا بدلہ گھر میں کھیل کر دیں۔رواں سال بنگلادیش کے سپورٹس ایڈوائزر آصف محمود نے بیان دیا تھا کہ سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کو سالگرہ کی مبارکباد دینے پر شکیب الحسن کو دوبارہ قومی ٹیم میں جگہ نہیں دی جائے گی، جس سے ان پر غیرعلانیہ پابندی کی پہلی سرکاری تصدیق ہوئی۔
شکیب الحسن نے اپنے باؤلنگ ایکشن کے حوالے سے بھی انکشاف کیا کہ کاؤنٹی کرکٹ میں حد سے زیادہ باؤلنگ کے باعث وہ تھکن کے نتیجے میں کچھ حد تک جان بوجھ کر غلط ایکشن استعمال کر رہے تھے۔ ایکشن ٹیسٹ میں ناکامی کے بعد انہوں نے چند ہفتے کی ٹریننگ سے اپنا ایکشن درست کیا اور دوبارہ باؤلنگ کی اجازت حاصل کرلی۔شکیب الحسن نے عندیہ دیا کہ وہ جس بھی سیریز میں واپسی کریں گے، اسی میں تینوں فارمیٹس کھیل کر اپنے شاندار کیریئر کو باضابطہ طور پر ختم کر دیں گے۔





















