ویسے تو مدت ہوئی ٹی وی ڈراموں سے دل اوبھ گیا لیکن نہ چاہتے ہوئے بھی گھر میں لگے ٹی وی، سوشل میڈیا اور خبروں کے توسط سے ڈرامہ سے تھوڑی بہت شناسائی رہتی ہی ہے۔ کافی عرصہ سے ذہن میں ”خلل“ سا تھا جس کے بارے میں احباب سے گفتگو بھی ہوئی تو تقریباً تمام احباب متفق ہوئے کہ ”خلل“ بے وجہ نہیں۔ پاکستانی ڈراموں کے بارے میں کافی کچھ مثبت اور منفی پہلوؤں کے بارے میں اکثر بحث و مباحثہ ہوتا رہتا ہے مگر میرا مدعا تھوڑا سا مختلف ہے، خود کیوں کہ ڈراموں کا شوقین نہیں اس لئے تواتر سے ڈرامہ بین نہیں ہوں لیکن کافی عرصہ سے ٹی وی پر کوئی ایسا ڈرامہ نہیں دیکھا جس میں غریب یا متوسط طبقہ کی کہانی بیان کی گئی ہوئی، جب بھی ٹی وی دیکھا اس پر لگے ڈراموں میں عالیشان بنگلے، لکژری گاڑیاں، بہترین لباس سمیت ایسا طرز زندگی دکھایا جاتا ہے جو کہ پاکستان میں میرے خیال کے مطابق زیادہ سے زیادہ 4 سے 5 فیصد اشرافیہ انجوائے کر رہی ہے، بھلے وقت میں ٹی وی پر تمام طبقات کی نمائندگی ہوتی تھی غریب، کسان، ہاری، مزدور، چھوٹے سرکاری ملازمین کی زندگی کی عکس بندی بھی کی جاتی تھی۔
اب یا تو ڈرامہ لکھنے والے خود اشرافیہ سے تعلق رکھتے ہیں، یا دیکھنے والے ایسے ڈرامے پسند کرتے ہیں اس کے بارے میں زیادہ وثوق سے کچھ کہہ نہیں سکتا مگر اگر اس ملک کا 95 فیصد طبقہ جس طرح کی زندگی گزار رہا ہے اس کی عکاسی ہوتی نظر نہیں آتی، دوسری بات اگر اشرافیہ کا گاڑیاں، بنگلے اور انکے مسائل ہی دیکھنے ہیں تو سوشل میڈیا پر ”جعلی“ امارت کے انبار لگے ہوئے ہیں، ہمارے یوٹیوبر، ٹک ٹاکر اور فیس بکی سٹار چاہے جس طبقہ سے بھی ہوں اس سے چند درجے اوپر اپنے آپ کو دکھانے کی کوشش کرتے ہیں یہ شاید نفسیاتی مسئلہ ہے یا کچھ اور، ہم دوسروں کو فریب دیتے دیتے خود فریبی کا شکار ہو جاتے ہیں اور اپنے آپ کو ان لوگوں میں سے سمجھنے لگتے ہیں جن میں سے اصل میں ہم تعلق نہیں رکھتے جس کی وجہ سے ہم اور ہمارے احباب اکثر مسائل کا شکار رہتے ہیں۔
بات چلی تھی ڈراموں سے کہاں سے کہاں نکل گئی، میری تجویز ہے کہ ڈرامہ نگار، ڈائریکٹر اشرافیہ کو ضرور دکھائیں لیکن ان کے ناظرین کی بیشتر تعداد اس طبقہ سے تعلق نہیں رکھتی جو انہیں دکھا کر مزید نفسیاتی اذیت دی جا رہی ہے۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔






















