مس یونیورس کا تاج میکسیکو کی فاطمہ بوش کے سر سج گیا۔
تھائی لینڈ میں منعقدہ تقریب کے دوران میکسیکن حسینہ نے کئی بار غلطیاں کیں جس پر آرگنائزر اور فاطمہ بوش کے درمیان طلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ اور وہ اسٹیج سے واک آؤٹ کر گئیں۔ کچھ دیر بعد حسینہ عالم کا اعلان کیا گیا تو اپنا نام سن کر خود فاطمہ بوش بھی سکتے میں آگئیں۔
میکسیکو کی فاطمہ بوش لائیو اسٹریمڈ میٹنگ کے دوران تھائی ایونٹ ڈائریکٹر کی سرِعام سرزنش کے بعد مداحوں کی پسندیدہ امیدوار کے طور پر ابھری تھیں،اس واقعہ کے بعد مقابلہ حسن میں شریک متعدد حسیناؤں نے احتجاجاً واک آؤٹ کردیاتھا۔
میکسیکو کی 25 سالہ فاطمہ بوش انسانیت دوست سرگرمیوں اور رضاکارانہ کاموں کے لیے جانی جاتی ہیں، ان کو بنکاک میں گزشتہ سال کی فاتح ڈنمارک کی وکٹوریا کیئر تھیلوِگ نے تاج پہنایا۔
مس یونیورس کو عالمی سطح پر خوبصورتی کے مقابلوں کا سپر باؤل کہا جاتا ہے، جسے ہر سال لاکھوں لوگ دیکھتے ہیں، ہر ملک کی نمائندہ مقامی نمایاں شخصیات کے ذریعے منتخب کی جاتی ہے جو مس یونیورس آرگنائزیشن سے لائسنس حاصل کرتے ہیں۔ اس سال 120 ممالک کی نمائندہ خواتین نے اس مقابلے میں حصہ لیا۔






















