بنگلادیش میں انسانیت کے خلاف جرائم کے کیس میں سابق وزیراعظم حسینہ واجد کو سزائے موت سنا دی گئی۔
عدالت نےحسینہ واجدکوانسانیت کےخلاف جرائم کاقصوروارقرار دے دیا،فیصلہ 3 رکنی انٹرنیشنل کرائمزٹر یبیونل نے سنایا،عدالت کی جانب سے جاری فیصلےمیں کہاگیا کہ شیخ حسینہ واجد نےطلبا سے بات چیت کے بجائے طاقت کا استعمال کیا،حسینہ واجد نےمہلک ہتھیاروں کےاستعمال کاحکم دے کر انسانیت کے خلاف جرم کا ارتکاب کیا،وزیرداخلہ اورپولیس چیف نےان احکامات پرعمل کرکےانسانیت کےخلاف جرم کا ارتکاب کیا۔
عدالت نےشیخ حسینہ واجدکو 3 الزامات کےتحت عمرقید اور سزائےموت کا حکم دیا،اس کے علاوہ سابق وزیرداخلہ اسد الزمان کو بھی سزائے موت سنادی گئی،ریاست سے تعاون پر سابق پولیس چیف چوہدری عبداللہ مامون کی سزائے موت 5 برس قید میں تبدیل کردی گئی۔
عدالتی فیصلےمیں کہاگیا کہ وزیرداخلہ اسد الزمان اور پولیس چیف انسانیت کے خلاف جرائم میں شریک مجرم ہیں،ان جرائم کو روکنا شیخ حسینہ واجد اور وزیر داخلہ کی ذمہ داری تھی۔
دوران سماعت پراسیکیوٹر نےدلائل دیتےہوئےکہاحسینہ واجد نےمظاہرین کے قتل کیلئے ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز کے استعمال کی اجازت دی،اشتعال انگیزتقاریر کے ذریعے مظاہرین کےخلاف لوگوں کو اکسایا، بیگم رقعیہ یونیورسٹی کےطالب علم ابو سعیدکوجان بوجھ کرقتل کیاگیا،ڈھاکا میں 6 مظاہرین کو براہ راست گولی مارکر قتل کیا گیا،آشولیا میں 6 لوگوں کو زندہ جلایا گیا۔
کیس میں حسینہ واجد،سابق وزیر داخلہ اور آئی جی پولیس پر5 الزامات کے تحت فرد جرم عائد کی گئی تھی،،سابق وزیراعظم حسینہ واجد،سابق وزیرداخلہ اور آئی جی پولیس پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام تھا۔
عدالتی فیصلے پر شیخ حسینہ واجد کا ردعمل
دوسری جانب شیخ حسینہ واجد نےعدالت کی جانب سے انسانیت کا مجرم قرار دینے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہر چیز کا حساب لیا جائے گا،میرے خلاف لگائےگئے الزامات جھوٹے ہیں،حامی پریشان نہ ہوں،انھیں فیصلہ جاری کرنے دیں، مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے۔
سابق وزیراعظم کے بیٹے نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ والدہ بھارت میں محفوظ ہیں اور وہ بھارتی فوج کی حفاظت میں ہیں،عدالتی فیصلے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اس سےقبل سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے اپنےحامیوں کے نام آڈیو پیغام جاری کر دیا، جس میں کہا گیا کہ محمد یونس کی عبوری حکومت نہیں چاہتی کہ عوامی لیگ انتخابات میں حصہ لے۔





















