ستائیس ویں آئینی ترمیم کے مسودے کوحتمی شکل دے دی گئی۔ پرنٹنگ کے لئے بھیج دیا گیا۔ قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کی رپورٹ سینیٹ میں پیش کردیا گیا۔
حکومت کو آئینی ترمیم منظور کرانے کیلئے 64 ووٹ درکار ہیں۔اتحادی جماعتوں کے ارکان کی مجموعی تعداد 61 ہے ۔ اے این پی کے 3 اور ایک آزاد سینیٹر نے بھی حمایت کا اعلان کررکھا ہے۔
قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق آئینی ترمیم کا حتمی مسودہ پرنٹنگ کیلئے بھجوادیا گیا۔ خیبرپختونخوا کے نام کی تبدیلی کے سوال کا واضح جواب دینے سے گریز کیا، کہا پارلیمنٹ کے اندررونق لگی ہے۔ کوئی ڈیڈ لاک نہیں۔ پارٹیوں نے اپنےنمبرپورے کرنے کیلئے حکمت عملی طےکرنا ہوتی ہے۔ پچھلی مرتبہ تو رات آٹھ بجے ووٹنگ ہوئی تھی ۔ آج توجلدی ہوجائے گی۔
قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کی رپورٹ سینیٹ میں پیش
قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کی رپورٹ سینیٹ میں پیش کردیا گیا۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کی۔ کہا آئینی ترمیمی بل پر تفصیلی غور کیا۔ کمیٹی نے بل کے اندر کافی تبدیلیاں کی ہیں، وفاقی آئینی عدالت کا قیام تجویز کیا گیا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔ وفاقی آئینی عدالت کیلئےہائیکورٹ جج کا تجربہ 7سے5سال کردیا، تبادلے سے جج کی سنیارٹی متاثر نہیں ہوگی۔ججزٹرانسفر اب جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے ذریعے ہوگی، ٹرانسفر تسلیم نہ کرنے والے جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر ہوگا۔
فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ صدر کو تاحیات امیونٹی دی گئی ہے، پبلک آفس کے ختم ہونے کے بعد امیونٹی بحال ہوجائے گی، اگر صدر الیکشن لڑنے کے بعد پبلک آفس ہولڈر بن جاتا ہے تو اس کی امیونٹی ختم ہوجائے گی۔
یاد رہے کہ قانون و انصاف کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے گزشتہ روز بنیادی مسودے کی منظوری دی تھی۔ سینیٹر فاروق ایچ نائک ترمیم سے متعلق قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کریں گے جبکہ وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ 27ویں آئینی ترمیمی بل منظور کے لیے پیش کریں گے۔
کمیٹی ارکان نے صدرمملکت کو عہدے پر رہتے ہوئے اور بعد میں بھی استثنیٰ دینے پر اصولی اتفاق کرلیا تاہم اس کا اطلاق کس حد تک ہوگا۔ یہ فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔
ترمیم کے مطابق صدر مملکت ہائیکورٹ کے جج کوجوڈیشل کمیشن کی سفارش پر ٹرانسفر کرنے کے مجاز ہوں گے، ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کا تبادلہ نہیں کیا جا سکے گا، ٹرانسفر ہونے والا جج دوسری عدالت کے چیف جسٹس سے سینئر نہیں ہوگا۔ اتفاق کیا گیا کہ آئینی عدالتیں قائم ہوں گی، کوئی بھی کیس ایک سال تک پیروی نہ ہونے پر نمٹا ہوا تصور ہوگا۔
متفقہ نکات میں وزیراعظم کو7مشیر رکھنے کا اختیار شامل ہے، وزرائے اعلیٰ کے مشیروں کی تعداد بھی بڑھانے کی تجویزپرغور کیا گیا۔ مجوزہ ترمیم پرکمیٹی اپنی رپورٹ سینیٹ میں پیش کرے گی، جس کے بعد آئینی ترمیم منظور کروانے کے مراحل کا آغاز ہوگا۔
اجلاس میں ایم کیو ایم کی بلدیاتی نمائندوں کو فنڈز سے متعلق ترمیم پر بھی مشاورت کی گئی تاہم پیپلزپارٹی نے ایم کیو ایم کی تجاویز پر اعتراض اٹھایا جبکہ دیگر اتحادی جماعتوں کی جانب سے مزید تین ترامیم پیش کی گئیں۔ خیبر پختونخوا سے نام خیبر ہٹا کر پختونخوا رکھنے کے تجویز پر بھی غور ہوا، بلوچستان اسمبلی کی نشستوں میں اضافے پر بھی مشاورت ہوئی۔





















