وزیراعظم شہبازشریف نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے قیمت نہ بڑھانے کا اعلان کر دیاہے ۔ ان کا کہناتھا کہ عید کے خوشیوں بھرے لمحات میں قیمتوں میں اضافے کی تجویز مسترد کی ، پیٹرول کی قیمت میں 50 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 74 روپے اضافے کی تجویز دی گئی تھی جسے میں نے مسترد کر دیا، پیٹرول 127 روپے،ڈیزل پر 252 روپے کا اضافہ روکنے کیلئے 69 ارب خرچ کر چکے ہیں۔
قوم سے اپنے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نےکہا کہ دل کی گہرائیوں سے سب کو عیدالفطر کی مبارک باد پیش کرتا ہوں، عید قومی یکجہتی اور اجتماعی ذمہ داری کا تقاضا کرتی ہے، عید کی خوشیاں تب پوری ہوتی ہیں جب انہیں اپنے اردگرد لوگوں کے ساتھ بانٹیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج دنیا ایک غیرمعمولی آزمائش سے دوچار ہے، ہمارے خطے میں جاری جنگ نے عالمی معیشت اور امن واستحکام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، خطے میں برادر ممالک کی توانائی تنصیبات پر ہونے والے حملوں نے بحران بڑھا دیا ہے۔
شہبازشریف کا کہناتھا کہ خدشہ بڑھتا جا رہا ہے کہ یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں،تیل کی قیمتوں کا بوجھ دنیا بھر پر پڑ رہا ہے،مہنگائی کا بحران جنم لے رہا ہے، پیٹرول کی قیمت میں 50 روپے اضافے کی تجویز دی گئی، ڈیزل کی قیمت میں 74 روپے اضافے کی تجویز دی گئی، میں نے قیمتوں میں اضافے کو مسترد کر دیا، تیل کی قیمتوں میں اضافے کا 24 ارب روپے کا بوجھ حکومت برداشت کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے ترقیاتی اخراجات کو محدود کیا، چاروں صوبوں سمیت گلگت اور آزاد کشمیر کے عوام پربوجھ نہیں بڑھنے دیا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز مسترد کر دی ہے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے، عید کے خوشیوں بھرے لمحات میں قیمتوں میں اضافے کی تجویز مسترد کی ، رواں ہفتے کے اضافی اخراجات حکومت برداشت کرے گی،حجم 45 ارب روپے بنتاہے، اس وقت بڑی ترجیح محروم طبقے کا تحفظ یقینی بنانا ہے، پیٹرول 127 روپے،ڈیزل پر 252 روپے کا اضافہ روکنے کیلئے 69 ارب خرچ کر چکے ہیں۔ ۔
ان کا کہناتھا کہ قیمتوں میں اضافے کا بوجھ خود اُٹھا کر عوام کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہم نے کہا تھا حکومت سے کفایت شعاری کا آغاز کریں گے، کفایت شعاری پالیسی نافذ العمل ہے، کفایت شعاری اقدامات کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لے رہا ہوں۔




















