فضائی آلودگی کم کرنے کیلئے پانی کا چھڑکاؤ کامیاب تجربہ ہے یا پانی بحران؟۔
لاہورمیں اینٹی اسموگ گنز فضائی آلودگی کم کرنے کی کوشش کر رہےہیں، لیکن شہری اور ماہرین پانی کے ضیاع پر تشویش میں ہیں۔
لاہور سمیت پنجاب کے بڑے شہروں میں اینٹی اسموگ گنز فضائی آلودگی عارضی طور پر کم کرنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، یہ گنز دن رات سڑکوں اور اہم مقامات پر پانی چھڑک کر فضاء صاف کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مگرشہری اور ماہرین روزانہ ہزاروں لیٹر پانی کے استعمال پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا یہ ماحول دوست حل ہے یا پانی کے بحران کو مزید بڑھا رہا ہے۔
اعداد و شمار کےمطابق ایک گن روزانہ ہزاروں لیٹر پانی فضا میں چھوڑتی ہے،لیکن اس کا اثر صرف تین سے چار گھنٹے تک رہتا ہے۔ اس کے بعد اسموگ دوبارہ پھیلنا شروع ہو جاتی ہے۔
جب زیر زمین پانی کی سطح تیزی سے نیچےجا رہی ہو،وہاں روزانہ ہزاروں لیٹر پانی کا چھڑکاؤ ایک نیا سوال کھڑا کر رہا ہے۔شہریوں نے اس ٹیکنالوجی کو قیمتی وسائل کا ضیاع قرار دیا ہے۔
ماہرماحولیات محمد یونس زاہد کاکہنا ہےکہ کسی بھی بہتری کے لیے کچھ نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے، لیکن یہ ٹیکنالوجی مستقل حل نہیں ہے۔
ماہرین کےمطابق لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں فضائی آلودگی کا مستقل حل تبھی ممکن ہے جب حکومت پانی کے بہتر استعمال اور ریسائکلنگ کے طریقے اپنائے۔



















