مستقل جنگ بندی کیلئے پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان ترکیہ میں مذاکرات کے دو دور ہوئے، بات چیت مزید تین روز تک جاری رہنے کا امکان ہے ، دہشتگردی کی روک تھام کے مکینزم پر بات چیت کی گئی، دوحا معاہدے کے بعد پیشرفت سے متعلق ڈوزئیرز کا تبادلہ کیا گیا ۔
تفصیلات کے مطابق اس سےپہلے 19 اکتوبرکو دوحہ مذاکرات میں وزیردفاع خواجہ آصف اورافغان ہم منصب ملا یعقوب شریک ہوئےتھےجس میں فوری جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا۔
افغان وفد میں نائب وزیر داخلہ رحمت اللہ نجیب ، فرسٹ پولیٹیکل ڈائریکٹر نور احمد نور،قطر میں افغان سفیر سہیل شاہین اور ترجمان وزارت خارجہ عبد القھار بلخی بھی افغان وفد میں شامل تھے۔ وزارت دفاع کے نمائندے نور رحمان نصرت بھی مذاکرات میں شریک ہوئے۔
خواجہ آصف
وزیر دفاع خواجہ آصف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھاکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بات چیت شروع ہوئی ہے، امید ہے اس بات چیت کا شام تک کوئی آؤٹ کم آئے گا، مذاکرات طے نہیں پاتے توآپشن ہے ہماری،تمہاری کھلی جنگ ہے، افغانستان کے ساتھ 2 گھنٹے قبل میٹنگ ہوئی ہے، اس کے نتائج کل تک سامنے آجائیں گے ، اگر معاملات طے نہ ہوئے تو جنگ ہی ہو گی، قطر میں مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا ابھی بات چیت کا عمل جاری ہے، اگر 40، 50لاکھ افغانی یہاں مقیم ہیں تو نوکریوں اور کاروبار پر بھی قابض ہیں۔شہدا کی وجہ سے ہماری سرحدیں محفوظ ہیں، ہماری بہادر افواج ملک کی حفاظت کیلئے ہر لمحہ تیار ہیں، ہم ہر دوسرے دن شہدا کے جنازے اٹھاتے ہیں، ہم چین سے سوتے ہیں ،ہماری سرحدیں محفوظ ہاتھوں میں ہیں، سیکیورٹی فورسز کے جوان سرحدوں پر اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں، ہماری پولیس اور افواج دہشتگردوں کے خلاف لڑ رہی ہیں، بھارت کے خلاف ایک جنگ لڑ چکے ہیں،اب بھارت جنگ افغانیوں کے ذریعے لڑ رہا ہے۔
دفتر خارجہ
دوسری جانب ترجمان دفترخارجہ طاہرحسین اندرابی نے کہا ہےکہ پاکستان کی دوحا مذاکرات کے تحت افغانستان کی صورتحال پر نظر ہے،اُمید ہے افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔ قیام امن کیلئےقطر کےکردارکوسراہتےہوئے افغانستان سےدوحا مذاکرات میں کئےگئے وعدوں پرعملدرآمد کا مطالبہ بھی کر دیا۔
ایک سوال پر ترجمان نے واضح کیا کہ افغانستان کی جانب سے پاکستان کیخلاف ڈیموں کے معاملات کافی عرصہ سے چلے آ رہے ہیں،پاکستان دریائے کنہڑ کے حوالے سے عالمی قوانین کی پاسداری کرے گا۔۔



















