امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی برقرار ہے، حماس کےساتھ معاملہ پرامن طور پر حل کرنا چاہتے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو میں ڈونلڈٹرمپ نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی برقرار ہے، فائرنگ کے واقعات میں مسلح گروپوں کی قیادت ملوث نہیں۔
امریکی صدر نے بھارت کو پھر بھاری ٹیرف کی دھمکی دےدی۔ کہا نریندر مودی نے روسی تیل نہ خریدنے کا کہا تھا اگر یہ سلسلہ نہ روکا تو بھاری ٹیرف برقرار رہے گا۔ امریکی صدر نے کہا چین ہمارے لیے کچھ کرے تو ٹیرف کم کردیں گے، نایاب معدنیات کے معاملے پر کھیل نہیں کھیلنے دیں گے۔
دوسری جانب نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی برقرار رکھنے کےلئے عرب ممالک کو سیکیورٹی کے نفاذ اور حماس کو غیر مسلح کرنے میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ سیز فائر میں مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑسکتاہے۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ حماس کو مکمل طور پرغیر مسلح کرنا چند دنوں میں ممکن نہیں۔ خلیجی ریاستوں کی فورسز کو غزہ جاکر سیکیورٹی کویقینی بنانا ہوگا۔ ان کامزید کہنا تھاکہ صدر ٹرمپ نے یوکرین کوفی الحال ٹام ہاک میزائل دینے کا فیصلہ نہیں کیا۔
غزہ میں جنگ بندی دوبارہ بحال
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی دوبارہ بحال ہوگئی۔ اسرائیلی فوج نے بھی سیزفائر کی بحالی کی تصدیق کردی۔
عرب ٹی وی کے مطابق ثالثوں کی کوششوں سے جنگ بندی ایک بار پھر مؤثر ہوئی۔ مصر، ترکیہ، قطر اور امریکا نے جنگ بندی کی بحالی کےلئے کردار اداکیا۔
یاد رہے کہ اسرائیل کی جانب سےگزشتہ روز سیزفائر معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ میں متعدد مقامات پر وحشیانہ بمباری کی گئی۔ جس میں 42 فلسطینی شہید ہوئے۔ قابض افواج نے جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے 80 خلاف ورزیاں کیں، جن میں 97 افراد شہید اور 230 زخمی ہوئے۔






















