بلوچستان کے مختلف شہروں میں فتنہ الہندوستان کی جانب سے کیئے جانے والے حملوں کو سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیاہے جس میں 3 خودکش بمباروں سمیت 92 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا، 2 روز کے دوران کامیاب کارروائیوں میں ہلاک دہشتگردوں کی تعداد 133 ہو گئی، دہشتگردوں کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے 15 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا جبکہ 18 شہری بھی شہید ہو گئے ہیں ۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر ، پسنی میں بزدلانہ کارروائیاں کیں لیکن سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت اور موثر کارروائی کرتے ہوئے انہیں ناکام بنا دیا ۔متعلقہ علاقوں میں سرچ اور سینیٹائزیشن آپریشنز تاحال جاری ہیں، ملوث حملہ آوروں ،منصوبہ سازوں، سہولت کاروں،معاونین کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس سے قبل 30 جنوری کو پنجگور اور ہرنائی میں فتنۃ الہندوستان اور فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 41 دہشت گرد ہلاک کیے گئے تھے۔ گزشتہ دو روز کے دوران کامیاب کارروائیوں کے بعد بلوچستان میں جاری آپریشنز کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 133 ہو گئی ہے۔انٹیلی جنس رپورٹس نے واضح طور پر تصدیق کی ہے کہ یہ حملے پاکستان سے باہر موجود دہشت گرد سرغنوں کی ہدایت پر کیے گئے، جو واقعے کے دوران دہشت گردوں سے براہِ راست رابطے میں تھے۔
علاقےمیں کسی بھارتی اسپانسرڈ دہشتگرد کی موجودگی کی پیش نظر سینیٹائزیشن آپریشنز جاری رہیں گے، ملک سےدہشت گردی کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسز اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گی۔
31 جنوری 2026 کو بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گرد گروہ فتنۃ الہندوستان نے بلوچستان میں امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔ دہشت گردوں نے کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی کے علاقوں میں متعدد دہشت گردانہ کارروائیاں کیں۔
اپنے غیر ملکی آقاؤں کی ایما پر کی گئی ان بزدلانہ کارروائیوں کا مقصد بلوچستان کے مقامی عوام کی روزمرہ زندگی اور صوبے کی ترقی کو نقصان پہنچانا تھا۔ ان حملوں کے دوران ضلع گوادر اور خاران میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں خواتین، بچوں، بزرگوں اور مزدوروں سمیت 18 بے گناہ شہری شہید ہو گئے۔
سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا۔ پوری طرح مستعد فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت اور بے مثال جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلوچستان بھر میں طویل، شدید اور جرأت مندانہ کلیئرنس آپریشنز کیے، جن کے نتیجے میں تین خودکش بمباروں سمیت 92 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا اور مقامی آبادی کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا۔
تاہم، کلیئرنس آپریشنز اور شدید جھڑپوں کے دوران وطن کے 15 بہادر سپوتوں نے جامِ شہادت نوش کیا اور عظیم قربانی پیش کی۔
علاقے میں موجود کسی بھی بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد کے خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشنز جاری رہیں گے۔ وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظوری سے نیشنل ایکشن پلان کے تحت شروع کی گئی مہم “عزمِ استحکام” کے وژن کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اپنی بلا توقف کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
وزیرداخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ بلوچستان کی پریس کانفرنس
محسن نقوی اور وزیراعلیٰ بلوچستان نے کوئٹہ میں اعلیٰ سطح اجلاس کے بعد مشترکہ بیان میں کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 12 مقامات پر حملے کرنے والے تمام دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا جبکہ اس کارروائی میں بھارت ملوث ہے۔
وزیرداخلہ نے کہا کہ دہشت گردوں نے پلان کر کے حملے کیے جن کو ناکام بنادیا گیا اور آپریشن مکمل ہوگیا جس میں موجود تمام دہشت گردوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مارا گیا۔آج کے حملوں میں پولیس، ایف سی اور آرمی نے دہشت گردوں کا مقابلہ کر کے داستان رقم کردی۔ بلوچستان کے وزیراعلیٰ بہت بہادر ہیں جو صورتحال کا سامنا کررہے ہیں۔
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کیا کہ آپریشن مکمل ہوگیا تاہم حتمی تفصیلات اب آنا باقی ہیں، گوادر میں لیبر کالونی میں بلوچ شہریوں کو قتل کیا گیا جس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا اور ان کا تعاقب کر کے ٹھکانے لگایا جائے گا۔





















