وفاقی وزیرریلوےحنیف عباسی نے سماء نیوز کے پروگرام ’ میرے سوال‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کا اسٹینڈ وہی ہے جو پہلے تھا، ہمارا اسٹینڈ ہے کہ جو دہشتگرد چھپے ہوئے ہیں ان کو ہمارے حوالے کریں یا پھر ان سے ہتھیار لے کر معافی تلافی کروائیں ، اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی دوسری چوائس نہیں ہے۔
وزیر ریلوے نے کہا کہ اگر ہم آپس میں کلیئر نہ ہوتے تو بھارت سے جنگ نہ جیت پاتے، فیلڈ مارشل نے اوور سیز پاکستانیوں کے کنونشن میں تقریر کی تھی ، اس پوری تقریر کو انہوں نے بھارت کے خلاف جنگ میں عملی جامہ پہنایا، اس جنگ کے بعد خارجہ پالیسی اچھی ہوئی ،اس سے پہلے نہیں دیکھی، ہم اوور کانفیڈنس نہیں ہیں ،پریشانی کی ضرورت نہیں ہے۔
ان کا کہناتھا کہ جب سےہم نے پاکستان کو سنبھالا تو ملک وینٹی لیٹر پر تھا، لوگ کہتے تھے کہ پاکستان ڈیفالٹ ہو گا مگر نہیں ہوا، سعودی عرب سے جو معاہدہ ہوا ہے وہ چھوٹی بات نہیں ہے، حرمین شریفین کی حفاظت کی ذمہ داری ہمارے حصے میں آئی ہے، جو سعودیہ کے پاس ہے وہ ہمارا ہے جو ہمارے پاس ہے وہ سعودیہ کا ہے، دنیامیں امن اس کو ملتا ہے جو طاقت کا مظاہرہ کرے، کمزور کو کوئی امن نہیں ملتا، ہمارے پاس پیسے نہیں تھے مگر صلاحیت تھی،بہترین فوج اور ایئرفورس ہے، ایرانی پارلیمنٹ میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگے، امریکا پاکستان کو گھاس نہیں ڈالتا تھاآج 57بار ٹرمپ نے کہا 7 جہاز گرائے گئے۔
حنیف عباسی نے کہا کہ ٹرمپ آج وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل کا بار بارحوالہ دیتے ہیں، جس طرح شہبازشریف نے پاکستان کی نمائندگی کی قابل رشک ہے، ایران پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے حوالے سے پاکستان نے پابندی لگا دی ہے، اس حوالے سے افغانیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے، شہدا کے لاشوں کی بےحرمتی کریں تو تجارت کا سوال پیدا نہیں ہوتا، مودی نے کئی بار دہرایا تھا کہ کوئی گڈ اور بیڈ طالبان نہیں، بھارت نے ایک شخص کو اپنے پاس بلا کر پیسے دیئے ہوں گے، 5ایمبولینس دی ہیں، مکمل معلومات ہیں بھارت نے کیش افغان وزیر خارجہ کو دیا ہے، طالبان حکومت سے 13 لوگ عراق کے ذریعہ بھارت سے متواتر کیش وصو ل کر رہے ہیں، 13لوگوں کو بھارت بریف کیس بھر کر پیسے دیتا ہے،ان کی باریاں ہوتی ہیں، یہ سلسلہ ایک سے ڈیڑھ سال سے چل رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب سےبی ایل اے کو سپورٹ کر رہے ہیں،ٹی ٹی پی کو کے پی میں بھجواتے ہیں ، تب سے یہ سلسلہ چل رہا ہے، ایران کو سمجھ آئی ،جنگ کے دوران افغانی اور بھارتی اسرائیل کے لیے جاسوسی کر رہا تھا، پھر انہوں نے افغان مہاجرین کو نکالنا شروع کر دیا، انہوں نے سمجھا تھا کہ پاکستان تجارت بند کرے گا تو ہم چاہ بہار سے کریں گے، آج ایران نے بھی پابندی لگا کر بارڈر بند کر دیا ہے، وہ افغانی جو دہشتگردی میں سہولت کار نہ ہو ہمارے لیے قابل احترام ہے، پاکستان کی سالمیت پر کوئی کمپرومائز نہیں ہونا چاہے۔
ان کا کہناتھا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ،امن تب آئے گاجب دشمن کو جواب دیں گے پھروہ مذاکرات کی میز پرآئے گا، دوحہ میں کہیں گے دہشتگردوں کی سپورٹ بند کریں ، ہم نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو شکست دی ہے، ہم نے اپنے شہدا کے جنازے اٹھائے اسکے بعد بھی ہم کمپرومائز کریں، فیلڈ مارشل نے کہا میرا ایک شہید ایک ہزار افغانیوں کے برابر ہے، افغانیوں پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا، 40سے زائد وفد اس سال ان کو سمجھانے گئے ہیں، انہوں نے ہمارے بچوں پر شب خون مارا پھر ہم نے ان کی ٹھیک ٹھکائی کی ۔



















