گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہاہے کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کا استعفیٰ 2 بج کر 30 منٹ پر موصول ہوا ، میری ٹیم اس کو دیکھے گی، آئین کے مطابق اس کی سکروٹنی ہو گی اور اس پر عمل کروں گا۔
تفصیلات کے مطابق گورنر کے پی کے کا کہناتھا کہ پیروالےدن اس پوزیشن میں ہوں گے کہ کچھ بتاسکیں، میری آئینی ٹیم دیکھ رہی ہے،کچھ کیڑے نکالنا چاہییں تو نکال سکتے ہیں، میرےپاس ایک استعفیٰ ہے میں اس کو قانونی طریقے سے دیکھوں گا سیاسی انداز سے نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت اکثریت آزاداراکین کی ہے،91آزاداراکین ہیں، حکومت بنانالیڈرآف دی ہاوس اور اپوزیشن لیڈر کا کام ہے، جن کے پاس اکثریت ہوئی وہی حکومت بنائیں گے، کےپی میں سیکیورٹی صورتحال کافی عرصہ سےخراب ہے، ہمارے جوان قربانیاں دے رہے ہیں، کل پولیس والوں نے ڈی آئی خان میں حملے کو روکا ۔
ان کا کہناتھا کہ ایسی کوئی بات گورنرراج کی نہیں ہو رہی ، آئین میں گورنرراج کی گنجائش ہے، چیزیں ٹھیک چل رہی ہیں،گورنرراج کی گنجائش نہیں ہے ۔
یاد رہے کہ دو روز قبل علی امین گنڈا پور کو عہدے سے ہٹانے کے فیصلے کی خبریں سامنے آئیں جس کے بعد سلمان اکرم راجہ نے تصدیق کی کہ عمران خان کی ہدایت پر انہیں ہٹایا جارہاہے اور ان کی جگہ نئے وزیراعلیٰ کیلئے سہیل آفریدی کو نامزد کیا گیا ہے ۔ اس اعلان کے بعد علی امین گنڈا پور نے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اب عمران خان بھی ان سے وزیراعلیٰ بننے کیلئے کہیں گے تو وہ نہیں بنیں گے ۔



















