وزیراعظم شہباز شریف نے اسرائیل کی جانب سے غزہ صمود فلوٹیلا کو روکنے اور پاکستانی شہریوں کو حراست میں لینے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری واپسی کا مطالبہ کر دیا۔
شہباز شریف نے جمعرات کو اپنے ایکس اکاؤنٹ میں لکھا کہ میں پاکستانی شہریوں کی غزہ فریڈم فلوٹیلا میں باوقار شمولیت کو سراہتا ہوں۔ پاکستانی شرکا کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام پاکستانی عوام کے امن پسند جذبات اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ اقدام پاکستانی عوام کے امن پسند جذبے، انصاف کی جدوجہد اور مظلوموں کی مدد کے جذبے کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان انسانی جان کے احترام، محفوظ رسائی اور امداد کی بلا تعطل ترسیل کے اصولوں کی حمایت کرتی ہے اور اپنے شہریوں کی بحفاظت اور جلد واپسی کے لیے دعاگو اور کوشاں ہے۔
میں "صمود غزہ فلوٹیلا" میں پاکستان کے شہریوں کی باوقار شرکت کو سراہتا ہوں۔ مشتاق احمد خان صاحب، مظہر سعید شاہ صاحب، وہاج احمد صاحب، ڈاکٹر اسامہ ریاض صاحب، اسماعیل خان صاحب، سید عزیز نظامی صاحب، اور فہد اشتیاق صاحب سمیت دیگر پاکستانیوں نے انسانی ہمدردی کے اصولوں کے عین مطابق اس… https://t.co/n6b22ZDmxj
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) October 2, 2025
اس سے قبل وزیراعظم نے اسرائیلی افواج کی جانب سے غزہ صمود فلوٹیلا‘ پر کیے گئے بزدلانہ حملے کی شدید مذمت کی تھی۔ وزیراعظم نے کہا تھا کہ اس فلوٹیلا میں 44 ممالک کے 450 سے زائد رضاکار شامل تھے جنہیں اسرائیلی افواج نے غیر قانونی طور پر حراست میں لے لیا ہے۔ ان رضاکاروں کا واحد جرم یہ تھا کہ وہ محصور اور مظلوم فلسطینی عوام کے لیے امداد لے کر جا رہے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ان تمام امدادی کارکنوں کی فوری ، غیر مشروط رہائی اور فلسطینی عوام کے لیے امداد کی بلا رکاوٹ ترسیل کا مطالبہ کرتا ہے۔ اسرائیلی بربریت کا فوری خاتمہ اور فلسطین میں پائیدار امن کا قیام وقت کا تقاضا ہے۔






















