پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ وہ اور ان کی پارٹی وزارتوں میں شامل نہیں ہیں مگر حکومت کے ساتھ ہیں، پاور شیئرنگ نہیں کر رہے لیکن حکومت کے ساتھ ہیں۔ تنقید پرکہا گیا چھوڑیں گے نہیں ۔ ہاتھ توڑدیں گے ۔۔ اگرسندھ سے ایسی آوازیں اٹھیں گی تو پھرکیا بنے گا؟ کیا ہم زبانیں بند کرکے بیٹھ جائیں؟ پنجاب چھوڑ کر چلے جائیں؟ جہاں غلطی ہوگی اس پراپنی رائے دیں گے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے پریس کانفرنس کے دوران قمر زمان کائرہ نے ماضی کا حوالہ دیا اور کہا کہ پچھلی حکومت میں بھی ان کے ساتھ تھے اور پچھلی حکومت میں کیسے الگ ہوئے تھے وہ بھی یاد ہے، کچھ ایسے سوالات اٹھائے گئے جن کا جواب دینا ضروری ہے۔
قمر زمان کائرہ نے سیاسی اختلاف کو جمہوری طریقے سے حل کرنے پر زور دیا اور کہا کہ مہربانی کریں جمہوری طریقے سے آرا دیں، اختلاف، تنقید، احتجاج کریں اتنی دور نہ جائیں، وہ لہجے الفاظ استعمال نہ کریں جو ماضی میں استعمال ہوتے رہے۔
پی پی رہنما نے یاد دلایا کہ بینظیر شہید اور صدر مملکت آصف زرداری نے میثاق جمہوریت کیا اور بلاول بھٹو نے بڑے تحمل کے ساتھ چیزیں آگے لے کر چلنے کی کوشش کی۔
قمر زمان کائرہ نے ملک میں آنے والے بڑے سیلاب کو بدقسمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے بڑا خوفناک سیلاب آیا ہے اور سیلاب سے انسانی جانوں کا ضیاع ہوا لوگوں کے گھروں کو نقصان پہنچا، جب حکومت وقت نے اچھا کام کیا تو پیپلز پارٹی نے سپورٹ کیا اور جب سندھ حکومت نے اچھا کام کیا تو سب نے اچھا کہا۔
کائرہ نے کہا کہ جہاں غلطی ہوگی اس پر اپنی رائے دیں گے، رائے نہیں مانی گئی تو تنقید کریں گے اور ہمیں نہ سنا گیا تو احتجاج کریں گے، یہ ہمارا جمہوری حق ہے۔
قمر زمان کائرہ نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور بالخصوص خاتون رہنماؤں کے خطاب کے انداز پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا آپ خاتون ہیں، ہماری بہن، بیٹی، قابلِ احترام ہیں اور ہم ایک خاتون کو اپنا لیڈر مانتے ہیں۔
اس کے ساتھ انہوں نے الفاظ اور لہجے کے استعمال کی ماضی کی مثالیں یاد دلائیں اور کہا کہ آپ صرف وزیراعلیٰ پنجاب نہیں، نواز شریف کی بیٹی ہیں اور آپ کے الفاظ وفاق کو باندھنے کے لیے ہونے چاہئیں۔ کہا کہ کسی کو بولنے سے روکنے یا ہاتھ توڑ دینے جیسا مؤقف بالکل مناسب نہیں۔






















