نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ امن منصوبے کے تحت فلسطین میں امن فورس تعینات ہوگی، امن منصوبے میں پاکستان کی شمولیت قابل فخر ہے۔ قانون نافذ کرنے والی فورس میں پاکستان کے کتنے افراد ہونگے اس پر قیادت فیصلہ کرے گی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ غزہ میں امن کےلیے معاہدے پر 8 ممالک نے بھرپور محنت کی ہے، منصوبے کے تحت فلسطین میں امن فورس تعینات ہوگی۔ امن فورس میں زیادہ تر فلسطینی شامل ہونگے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ فلسطینیوں کی ٹیکنو کریٹ حکومت میں فلسطینی موجود ہونگے جبکہ عالمی سطح پر پیس انوائے ٹونی بلیئر ہونگے، گراونڈ پر پیس کیپنگ فورس میں انڈونیشیا نے 26ہزار افراد کی پیش کش کی ہے۔ قانون نافذ کرنے والی فورس میں پاکستان کے کتنے افراد ہونگے اس پر لیڈر شپ فیصلہ کرے گی۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا 20 نکاتی اعلان الگ ہے اور 8 مسلم ممالک کا بیان الگ ہے، فلسطینی حکام نے 8ملکوں کے مشترکہ اقدامات کا خیر مقدم کیا۔ تحریری طور پر امریکا نے مسودہ تیار کیا، اس میں تمام اسلامی ممالک نے ترامیم دیں۔ 48 سے 72 گھنٹوں میں 20 پوائنٹس دیے اور ہم نے 24گھنٹوں میں ترامیم کیں، اس میں یو ایس پیس کیپنگ کی بجائے غزہ میں الگ فورس امن کا قیام لائے گی۔
اسحاق ڈار کے مطابق یہ تمام مسلم ممالک نے متفقہ طور پر کہا ہے کہ غزہ میں مغربی کنارے کو تقسیم نہیں کیا جائے گا، اسرائیل کو اس کو مانتا ہے کہ نہیں اس لئے امریکا کو اس میں شامل کیا گیا، ہم نے اسرائیل سے براہ راست ڈیل نہیں کی ہم نے امریکا سے بات کی۔ 8 ممالک کے سربراہان کی یہی سوچ تھی کہ جسکے پاس طاقت ہے اس سے بات کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین امن معاہدے پر سعودی وزیر خارجہ مسلسل رابطے میں رہے،8 ممالک مسئلہ فلسطین 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے تحت حل کیلئے پر عزم ہیں، حماس اس معاملہ پر خاموش رہے، فلسیطنی حکام کی جانب سے مثبت جواب آیا ہے۔ وہاں کے 5عرب ممالک نے کہا کہ حماس اس معاملے کو مانے گا اس پر ردعمل نہیں دے گا۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا میں 8 ممالک کا ایک ہی ایجنڈا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی کرائی جائے، امریکی صدر ٹرمپ سے مسئلہ فلسطین پر بات ہوئی، غزہ میں فوری جنگ بندی اور امداد کی فراہمی پر مثبت بات چیت ہوئی۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ کچھ لوگ فلسطین امن منصوبے پر تنقید کررہے ہیں، تنقید کرنے والے فلسطین میں مسلسل اموات چاہتے ہیں؟ غزہ میں معصوم فلسطینیوں کا خون بہہ رہا ہے، فلسطین کے معاملے پر سیاست سے گریز کیا جائے۔






















