اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کےدوران پاکستان کی کونسلرمحترمہ سائمہ سلیم نے بھارت کےجھوٹے دعوؤں اور پراپیگنڈے پر بھرپور حقِ جواب استعمال کرتےہوئےکہا کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے لبادے میں دراصل سب سے بڑی جھوٹی معلومات پھیلانے والی فیکٹری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت واحد ایسا ملک ہے جو ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کو بطور پالیسی استعمال کرتا ہے۔ پاکستان کے خلاف دہشت گرد نیٹ ورکس، ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ جیسے گروہوں کو بھارت کی پشت پناہی حاصل رہی ہے، جنہوں نے معصوم شہریوں، عبادت گاہوں اور درسگاہوں کو نشانہ بنایا۔
محترمہ سائمہ سلیم نے کہا کہ پاکستان کی قربانیوں کو عالمی برادری تسلیم کرچکی ہے، اس لیے ایک جارح اور قابض ریاست کو کسی کو درس دینے کا حق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاہلگام واقعے پر پاکستان نے غیر جانب دار اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا، لیکن بھارت نے اس سے انکار کرکے اپنے کردار کو مزید مشکوک بنایا۔
انہوں نے بھارتی جارحیت کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ مئی 2025 میں بھارت نے پاکستان پر بلاجواز حملے کیے جن میں بے گناہ شہری شہید ہوئے، لیکن پاکستان نے ہمیشہ ذمہ دارانہ اور پرامن رویہ اپنایا۔ بھارت کی جارحانہ پالیسیوں نے اس کے توسیع پسندانہ عزائم کو بے نقاب کیا اور اس کی عسکری برتری کے تمام دعوے دنیا کے سامنے جھوٹ ثابت ہوئے۔
بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو اقوام متحدہ میں اجاگر کرتے ہوئے کہا گیا کہ 24 کروڑ پاکستانی عوام کی زندگی کے لیے ناگزیر پانی کو ہتھیار بنانا عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے سائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کو ان کے عقیدے پر، عیسائیوں کو ان کی عبادت پر، سکھوں کو ان کی شناخت پر اور دلتوں کو ان کی ذات پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ گجرات، دہلی اور منی پور جیسے سانحات بھارتی ریاستی سرپرستی میں ہوئے۔ آج بھارت میں اسلاموفوبیا قانون اور سیاست میں رچ بس گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نہ صرف اپنے ملک میں اقلیتوں کو کچل رہا ہے بلکہ ہمسایہ ممالک کو ڈراتا دھمکاتا ہے، خطے میں تعاون کو روکتا ہے اور پراکسی گروہوں کو فنڈنگ فراہم کرکے عدم استحکام پھیلا رہا ہے۔
کشمیر کے مسئلے پر پاکستانی مندوب نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر بھارت کا حصہ کبھی نہیں رہا اور نہ کبھی ہوگا۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں واضح طور پر کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دیتی ہیں، جہاں کشمیری عوام کو استصوابِ رائے کا حق دیا جانا چاہیے۔ بھارت نے وادی کو دنیا کے سب سے زیادہ عسکری علاقے میں بدل دیا ہے جہاں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، اجتماعی قبریں، جنسی تشدد اور میڈیا بلیک آؤٹ معمول بن چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پرامن بقائے باہمی اور علاقائی استحکام کا حامی ہے، تاہم بھارت کو یہ اجازت ہرگز نہیں کہ وہ پاکستان کی خودمختاری کو پامال کرے یا معصوم شہریوں کو نشانہ بنائے۔ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ اگر جارحیت مسلط کی گئی تو اس کا جواب بہادری اور عزم کے ساتھ دیا جائے گا۔
اختتام میں محترمہ سائمہ سلیم نے کہا کہ پاکستان بھارت کی منافقت، کشمیر پر قبضے، انسانی حقوق کی پامالی اور اس کی جھوٹی پروپیگنڈہ مہم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرتا رہے گا۔ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، اور ایک دن وہ ضرور آزادی حاصل کریں گے۔



















