وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بنوں کا دورہ کیا جہاں انسداد دہشت گردی سے متعلق اعلٰی سطح کے اجلاس میں اور جنوبی وزیرستان آپریشن میں شہید ہونے والے جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔
وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ دہشت گردی کا بھرپور جواب جاری رہے گا، اس معاملے میں کسی قسم کا کوئی ابہام برداشت نہیں کیا جائے گا، پاکستان میں دہشتگردی کرنے والوں کے سرغنہ اور سہولت کار افغانستان میں موجود ہیں ، ان دہشتگردوں کی کی پُشت پنائی ہندوستان کر رہا ہے، افغانستان کو واضح کر دیا گیا ہے خارجیوں اور پاکستان میں سے ایک کا انتخاب کر لیں،
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں افغان باشندے شامل ہیں ، یہ لوگ افغان سرحد پار پار کر کے پاکستان میں دہشت گردی کر رہے ہیں، غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کا جلد انخلا انتہائی اہم ہے ، پاکستانی قوم دہشت گردی کے معاملے پر سیاست اور گمراہ کن بیانیے کو مکمل رد کرتی ہے، خارجیوں اور بھارتی دہشتگرد پراکسیوں کی سہولت کاری یا معاملہ فہمی کی بات کرنیوالا انہی کا آلہ کار ہے، ان آلہ کاروں کو بھی اسی زبان میں جواب دیا جائے گا جس کے وہ حق دار ہیں ۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان خصوصاً کے پی کے غیور عوام ریاست و افواج پاکستان کے ساتھ بھارتی پراکیسز کیخلاف متحد ہیں ، بالکل اسی طرح جیسے پوری پاکستانی قوم بنیان مرصوص میں متحد تھی ، دہشت گردی کیخلاف مزید مؤثر جواب کیلئےجو ضروری انتظامی وقانونی اقدامات کرنا پڑے فوراً کریں گے۔
وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے سی ایم ایچ بنوں میں زخمیوں کی عیادت بھی کی ، کورکمانڈر پشاور کی علاقے کی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔



















