سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی تنخواہ بڑھانے کا اختیار اسٹیٹ بینک بورڈ سے واپس لے کر حکومت کی منظوری سے مشروط کرنے کی سفارش اور اس حوالے سے قانون سازی کا مطالبہ کردیا ، کمیٹی نے گورنر کو سیلری پیکیج پر وضاحت کیلئے طلب کر لیا جبکہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کی روک تھام سمیت ورچوئل اثاثوں کی ریگولیشن کیلئے بل جلد پاس کرایا جائے گا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور سینیٹرعبدالقادر کی زیر صدارت ہوا۔ وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا کہ 2019 میں اس وقت کے گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کی تنخواہ 25 لاکھ روپے ماہانہ تھی جبکہ اکتوبر 2023 میں اسٹیٹ بینک کے بورڈ نے گورنر کی ماہانہ تنخواہ 40 لاکھ روپے کرنے کی منظوری دی۔ کمیٹی نے گورنر اسٹیٹ بینک اور ڈپٹی گورنر کی موجودہ تنخواہ اور الاونسز سمیت سیلری پیکیج کی تفصیلات مانگ لیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک اور سیکرٹری خزانہ کو آئندہ اجلاس میں طلب بھی کر لیا گیا۔ کمیٹی ارکان نے ایس ای سی پی افسران کی جانب سے اپنی تنخواہوں میں حکومت کی منظوری کے بغیر 38 کروڑ روپے اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ تمام انیس ریگولیٹری باڈیز کی تنخواہوں اور مراعات کیلئے یکساں پالیسی کی تجویز بھی دے دی۔
مزید پڑھیں: پنجاب کے مختلف اضلاع میں ترقیاتی اسکیموں کیلئے اربوں روپے کے فنڈ منظور
اجلاس میں ورچوئل ایسٹ بل پر شق وار غور کیا گیا ۔ اسٹیٹ بینک کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے کہا اس وقت کرپٹو کرنسی غیر قانونی نہیں بلکہ گرے ایریا میں ہے۔ سلیم مانڈوی والا بولے کرپٹو کرنسی حوالہ اور ہنڈی کے زریعے استعمال ہورہی ہے۔ محسن عزیز نے کہا کہ اغواء کار بھی اب کرپٹو کرنسی میں پیسہ مانگتے ہیں۔ سندھ اور کے پی میں ممنوعہ تنظمیں بھی اسی طرح بیرونی فنڈنگ حاصل کر رہی ہیں۔ حکام وزارت خزانہ نے کہا پاکستان ورچوئل اثاثوں میں سرمایہ کاری کے حوالے سے ٹاپ ٹین ملکوں میں شامل ہے۔ آئندہ اجلاس میں مسودے کی خامیاں دور کرکے منظوری دیئے جانے کا امکان ہے۔



















