سپریم کورٹ میں اسپین کے سفارتکار کو ڈیٹا بیچنے کے ملزم ٹیلی کام کمپنی ملازم کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیئے بادی النظر میں ایسے شواہد ریکارڈ پر ہیں جن کا ملزم کے ساتھ تعلق بنتا ہے ، ضمانت کیس میں ایسی کوئی آبزرویشن نہیں دے سکتے جس سے ٹرائل متاثر ہو ۔
ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا میرے مؤکل سے کوئی ریکوری نہیں ہوئی ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل راجا شفقت کا کہنا تھا ملزم کامران صدیقی کی ایک سفارتکارکے ساتھ کی گئی گفتگو پکڑی گئی ہے ۔ سفارت کار کو ڈیٹا اور سی ڈی آر بیچی گئی ، نجی ٹیلی کام کمپنی کا ملازم ڈیٹا فروخت کرنے کا مجاز نہیں تھا ، چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کیس کا چالان تاحال کیوں پیش نہیں کیا گیا ؟ عدالت نے استغاثہ کو چالان جلد عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت آئندہ بدھ تک ملتوی کر دی ۔



















