وزیراعظم شہبازشریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے پیش نظر کفایت شعاری کے اقدامات کا اعلان کر دیا ہے جس میں ان کا کہناتھا کہ آئندہ دو ماہ کیلئے سرکاری محکموں کو ملنے والے تیل میں 50 فیصد فی الفور کٹوتی کی جارہی ہے ، مگر اس میں ایمبولینس اور عوامی استعمال والی بسیں شامل نہیں ہیں، ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی جبکہ وزراء اور کابینہ اراکین 2 ماہ تنخواہ نہیں لیں گے، رواں ہفتے کے آخر سے تمام تعلیمی اداروں میں 2 ہفتوں کی چھٹیاں دی جارہی ہیں ، ہفتے میں صرف 4 دن دفاتر کھلیں گے، تیل کی بچت کیلئے ہفتے میں ایک اضافی چھٹی دی جارہی ہے ، مگر اس کا اطلاق بینکوں پر نہیں ہوگا، سرکاری اور نجی شعبے میں ضروری خدمات کو چھوڑ کر باقی تمام جگہوں پر 50 فیصد سٹاف گھر سے کام کرے گا یعنی ورک فرام ہوم ہو گا۔
وزیراعظم شہبازشریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے پورا خطہ بشمول ایران اور مشرق وسطیٰ شدید جنگی صورتحال کی لپیٹ میں ہیں، معصوم انسانی جانوں کا ضیاع اور امن کو لاحق خطرات ہم سب کیلئے گہری تشویش کا باعث ہے، پاکستان اس کشیدہ صورتحال میں کوشش کر رہاہے کہ معاملات سفارتکاری کے ذریعے حل ہوں، دوسری جانب ہمیں اپنی مغربی سرحدوں پر بھی دہشتگردی کا سامنا ہے ، افغانستان میں موجود دہشتگردوں کے سہولت کاروں کی جانب سے ہونے والی دراندازی اور حملوں کے جواب میں ہماری بہادر افواج ، ہمارے بہادر سپہ سالار سید عاصم منیر کی لیڈر شپ میں وطن عزیز کی سلامتی، شہریوں کے جان و مال کی حفاظت یقینی بنانے کا مقدس فریضہ انتہائی جافشانی کے ساتھ ادا کر رہی ہیں جن پر انہیں سلام پیش کرتاہوں ۔
انہوں نے کہا کہ ایران میں ہونے والے اسرائیلی بہیمانہ حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ ، معصوم ایرانی بہن بھائیوں کی شہادت پر حکومت پاکستان اور عوام نے گہرے دکھ کا اظہار کیاہے، ہم ان حملوں کی دو ٹوک الفاظ میں بھرپورمذمت کرتے ہیں، پاکستان اپنے برادر مسلم ممالک ، سعودی عرب، یو اے ای، کویت بحرین ، قطر، اردن ، لبنان، عمان، ترکیہ اور آذربائیجان پر ہونے والے حملوں پر بھی شدید مذمت کرتاہے اور جانی نقصان پر اظہار افسوس کرتاہے ۔
وزیراعظم نے کہا کہ ان حملوں سے پورے خطے امن و استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہیں ، ان مشکل حالات میں میرے ان برادر ممالک کے قائدین سے تفصیلی گفتگو ہوئی ہے ، میں نے آپ کی جانب سے ان ممالک کے عوام اور قیادت کو یہ پیغام دیاہے کہ پاکستان اس آزمائش کی گھڑی میں ان ممالک کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑاہے، یہ بات یاد رہے کہ ہم ان برادر ممالک کی سلامتی اور استحکام کو اپنی سلامتی اور استحکام کا حصہ سمجھتے ہیں۔
ان کا کہناتھا کہ آج کی دنیا میں ایک ملک میں پیدا ہونے والا بحران چند ہی دنوں میں دوسرے ممالک میں پھیل جاتا ہے ، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت چند روز قبل 60 ڈالر فی بیرل تھی وہ اچانک بڑھ کر 100 ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے ، اگر حالات یونہی بگڑتے رہے تو یہ قیمتیں قابو سے باہر ہو جائیں گی ، ہماری معیشت زراعت ، صنعتوں ، ٹرانسپورٹیشن اور روز مرہ زندگی کا زیادہ انحصار خلیج سے آنے والے تیل اور گیس کی فراہمی پر ہے ، اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے معیشت کے استحکام کیلئے نہایت اہم اور مشکل فیصلے کیے ، ایسے انتظامی اور معاشی فیصلے جو ہرگز آسان نہیں تھے، ہم نے مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنایا اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات متعارف کروائیں تاکہ پاکستان کو درپیش توانائی بحران کو کم کیا جا سکے۔
شہبازشریف کا کہناتھا کہ تاہم ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی ہو گی کہ عالمی منڈی میں گیس اور تیل کی قیمتوں کا تعین پاکستان کے اختیار میں نہیں ہے، جب دنیا میں کشیدگی بڑھتی ہے ، جنگ جنم لیتی ہے تو اس کے منفی اثرات براہ راست توانائی کی قیمتوں پر پڑتے ہیں، اسی طرح کے مشکل حالات عالمی سطح پر پیدا ہو چکے ہیں، جس کے اثرات ہم پر بھی مرتب ہو رہے ہیں، آپ کو یقین دلاتاہوں کہ آپ کی حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ پاکستان کی معیشت کو مستحکم رکھا جائے ۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کو حالیہ دنوں میں تیل کی قیمتوں میں جو اضافہ کرنا پڑا وہ انتہائی مشکل اور دل پر پتھر رکھ کر کیا جانے والا فیصلہ تھا، جس کی منظوری دیتے ہوئے میرا دل اور دماغ کشمکش سے گزرے ، دماغ کہتا تھا کہ قیمت بڑھانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں، دل کہتا تھا کہ کہیں غریب نہ پس جائے، مجھے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں موجودہ اضافے سے کہیں زیادہ اضافہ کرنے کی تجویز دی گئی ، ہم نے کوشش کر کے درمیانی راستہ نکالا تاکہ آپ پر بہت زیادہ بوجھ نہ پڑے ۔
آپ سب اس بات کے گواہ ہیں گزشتہ برسوں میں پاکستان کو کس قدر مشکل معاشی حالات کا سامنا کرناپڑا، ایک وقت ایسا بھی آیا جب پاکستان کو دیوالیہ ہونے کے مشکلات کا سامنا تھا۔ ان مشکل ترین حالات میں ہم نے سیاسی فائدے کو پس پشت ڈال کر ریاست اور معیشت کے مفاد ، آپ کے مفاد کو ترجیح دی ، مشکل فیصلوں میں آپ نے ہمارا بھر پور ساتھ دیا، صبر اور حوصلے کا بھر پور مظاہرہ کیا ، اسی طرح مہنگائی میں کمی ہوئی، پالیسی ریٹ نصف ہو چکاہے، روپے کی قدر مستحکم ہے ، بجلی کی قیمت میں بھی بڑی محنت سے کمی لائی گئی ہے ۔آپ کویقین دلاتاہوں کہ ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ آپ پر بوجھ کم سے کم ڈالا جائے، میں بخوبی آگاہ ہوں کہ گھر کے بزرگوں کی دوائی کیلئے پیسے کم پڑ جائیں ، تعلیمی اخراجات کی فکر دل پر بوجھ بن جائے تو باپ ، ماں اور بیٹے کے دل پر کیا گزرتی ہے۔
ان کا کہناتھا کہ اگلے آنے والے چند دنوں میں تیل کی قیمتیں پھر بڑھیں گی ان میں اضافہ ناگزیر ہو گا مگر میری بھر پور کوشش ہو گی کہ تیل کی قیمتوں میں آئندہ اضافے کا بوجھ آپ پر نہ پڑے، اس مقصد کیلئے ہر دن مشاورت اور کاوشیں جاری ہیں، اللہ کو منظور ہوا تو میں آپ کو مایوس نہیں کروں گا۔
میں اشرافیہ سے صاحب حیثیت افراد سے مخاطب ہوں ، آپ جانتے ہیں کہ جب بھی قوم پر مشکل وقت آتاہے تو اس قوم کے صاحب حیثیت افراد جن کے دلوں میں خوف خدا ہوتاہے وہ آگے بڑھ کر دکھی انسانیت کا ہاتھ تھام لیتے ہیں، ہماری تاریخ گواہ ہے کہ مزدور اور محنت کش لوگ ، جو رزق حلال کماتے ہیں ، انہوں نے آگے بڑھ کر قربانیاں دی ہیں مگر آ ج وقت آ چکاہے کہ اشرافیہ آگے بڑھے صاحب حیثیت لوگ آگے بڑھیں جو ذمہ دار معاشرے کے صاحب حیثیت طبقے کو دل میں خوف خدا رکھتے ہوئے کرنا چاہیے، اس تناظر میں آج اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے بچت عوامی ریلیف ، کفایت شعاری اور حکومتی معاملات میں سادگی اختیار کرنے کیلئے متفقہ طور پر بہت اہم فیصلے کیئے گئے ۔
آئندہ 2 ماہ کیلئے سرکاری محکموں کو ملنے والے تیل میں 50 فیصد فی الفور کٹوتی کی جارہی ہے ، مگر اس میں ایمبولینس اور عوامی استعمال والی بسیں شامل نہیں ہیں
آئندہ 2 ماہ کیلئے تمام سرکاری محکموں کی 60 فیصد گاڑیوں کو بند کیا جارہاہے تاکہ تیل کی بچت ہو۔
آئندہ دو ماہ کیلئے کابینہ کے اراکین، وزرا اور مشیران تنخواہ نہیں لیں گے ۔
ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں سے 25 فیصد کٹوتی کی جارہی ہے
20 گریڈ اور اس سے اوپر کے ایسے افسران جن کی تنخواہ 3 لاکھ سے زائد ہے ان کی 2 دن کی تنخواہ کی کٹوتی کر کے عوامی ریلیف کیلئے استعمال کی جائے گی
تمام سرکاری محکموں کو تنخواہوں کے علاوہ کیئے جانے والے اخراجات میں 20 فیصد کمی کی جارہی ہے ۔
سرکاری محکموں میں گاڑیوں، فرنیچر، ایئر کنڈیشن اوردیگر اشیاء کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے
وفاقی حکومت و صوبائی وزراء مشیران اور معاونین ، سرکاری افسران کے بیرون ملک دوروں پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے سوائے ان دوروں کے جو ملکی مفاد کیلئے ناگزیر ہیں، یہ پابندی وزیراعظم ، وزراء اعلیٰ اور گورنر ز پر بھی عائد ہو گی ۔
ٹیلی کانفرنس اور آن لائن میٹنگز کو ترجیح دی جائے گی تاکہ ایندھن کی زیادہ سے زیادہ بچت ممکن ہو سکے
سرکاری عشائیوں اور افطار پارٹیز پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔
سرکاری اخراجات میں کمی کیلئے سیمینارز اور کانفرنسز ہوٹلوں کی بجائے سرکاری جگہوں پر منعقد کیئے جائیں گے ۔
ملک میں ایندھن اور توانائی کی بچت کیلئے سرکاری اور نجی شعبوں میں بھی اہم فیصلے کیئے گئے ہیں، سرکاری اور نجی شعبے میں ضروری خدمات کو چھوڑ کر باقی تمام جگہوں پر 50 فیصد سٹاف گھر سے کام کرے گا یعنی ورک فرام ہوم ہو گا
ہفتے میں صرف 4 دن دفاتر کھلیں گے، تیل کی بچت کیلئے ہفتے میں ایک اضافی چھٹی دی جارہی ہے ، مگر اس کا اطلاق بینکوں پر نہیں ہوگا، صنعت اور زراعت کے شعبوں پر بھی ورک فرام ہوم اور اضافی چھٹی کے فیصلوں کا اطلاق نہیں ہوگا
تمام سکولوں کو رواں ہفتے کے آخر سے دو ہفتوں کی چھٹیاں دی جارہی ہیں، تمام تعلیمی اداروں میں آن لائن کلاسز کا آغاز کیا جا رہاہے، مفاد پرست عناصر اور ذخیرہ اندوزوں، پیٹرول اور ڈیزل کے ناجائز منافع خوروں کو خبردار کرتاہوں کہ اس صورتحال سے وہ ہرگز ناجائز فائدہ حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں ورنہ قانون کا آہنی ہاتھ حرکت میں آئے گا اور بھرپور کارروائی ہو گی ۔اس سلسلے میں تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایات جاری کی جا چکی ہیں۔
طاقت کے توازن بدل رہے ہیں اور نئے اتحاد بن رہے ہیں اس نازک موڑ پر پاکستان کو ایک مرتبہ پھر سے اتحاد ، اخوت، قومی یکجہتی اور احساس ذمہ داری کی جتنی ضرورت آج ہے شائد پہلے کبھی نہ تھی، رمضان المبارک کا مبارک مہینہ ہمیں صبر، اخوت ، ایثار، قربانی اور اجتماعی ذمہ داری کا درس دیتاہے اور یاد دلاتاہے کہ ایک مضبوط باوقار قوم وہ ہوتی ہے جو مشکل کی گھڑی میں تدبر ، صبر حکمت اور باہمی تعاون کے ساتھ آگے بڑھتی ہے ۔ مقصد بلند اور نیت نیک ہو تو اللہ تعالی کی مدد ضرور شامل حال ہوتی ہے ۔





















