وزیراعظم شہباز شریف کی چین کے سرکاری دورے کے دوران ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات ہوئی جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے سیاسی، اقتصادی، دفاعی اور سلامتی سمیت تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
ترک صدر اردوان نے پاکستان میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے عوام سے مکمل یکجہتی کی یقین دہانی کرائی۔
اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے فلسطین کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
طلبا سے خطاب
وزیراعظم شہباز شریف نے تیانجن یونیورسٹی میں پاکستانی اور چینی طلبا سے خطاب بھی کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ پاک، چین دوستی میں دنیا کی کوئی طاقت دراڑ نہیں ڈال سکتی، یہ رشتہ اٹوٹ ہے اور ہمیشہ قائم رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ چین کا دنیا کی بڑی معیشت اور عسکری قوت کے طور پر ابھرنا پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے۔
وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ پاک چین دوستی نے کئی سازشوں اور رکاوٹوں کا مقابلہ کیا ہے لیکن یہ تعلقات مزید مضبوط ہو کر ابھرے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہماری تقدیر مشترکہ ہے اور پاکستان کو اس بات پر فخر ہے کہ چین دنیا کا عظیم ملک ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ چین کے دوران صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ سے اہم ملاقاتیں شیڈول ہیں جن میں سی پیک فیز ٹو، سرمایہ کاری اور باہمی تعاون کے دیگر امور پر بات چیت ہوگی۔
وزیراعظم چینی تاجروں اور سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں کریں گے، پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس سے خطاب کریں گے اور دوسری جنگِ عظیم میں چین کی فتح کی 80 ویں سالگرہ کی فوجی پریڈ میں بھی شرکت کریں گے۔



















