دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ دیکھا جارہاہے جو کہ اس وقت 2 لاکھ 19 ہزار کیوسک تک جا پہنچا ہے، ریسکیو ٹیمیں اور متعلقہ ادارے ہائی الرٹ ہیں، دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے جبکہ دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ، ہیڈ خانکی اور ہیڈ قادر آباد پر پانی کے بہاؤ میں کمی دیکھنے میں آئی ہے ۔
دریائے راوی کی صورتحال
دریائے راوی میں جسٹر کے مقام پر پانی کا بہاؤ 99 ہزار 470 کیوسک، شاہدرہ کے مقام پر 2 لاکھ 19 ہزار 770 کیوسک، ہیڈ بلوکی کے مقام پر ایک لاکھ 4 ہزار 435 کیوسک ہے ۔
دریائے چناب کی صورتحال
دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤایک لاکھ 50 ہزار، ہیڈ خانکی پر 2 لاکھ 46 ہزار کیوسک، ہیڈ قادرآباد میں 3 لاکھ 68 ہزار 722 کیوسک، چنیوٹ پل پر 6 لاکھ 88 ہزار کیوسک ہے ۔
دریائے ستلج کی صورتحال
دریائے ستلج میں میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 61 ہزار 53 کیوسک، ہیڈ سلیمانکی میں پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 13 ہزار 524 کیوسک اور ہیڈ اسلام پر 52 ہزار 706 کیوسک ہے ۔
لاہور
لاہور میں شاہدرہ کے مقام پر دریائے راوی میں انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلہ گزر رہاہے ، جس کا بہاؤ 2 لاکھ 19 ہزار کیوسک ہے ، اب سے کچھ دیر قبل جسٹر کے مقام پر سیلاب کی سطح میں کمی آئی تو اس کے بعد راوی میں بھی پانی کی سطح میں معمولی کمی دیکھی گئی ،جو کہ ایک لاکھ 88 ہزار کیوسک تھی لیکن ایک مرتبہ پھر راوی میں پانی کی آمد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ، یہاں پر ریسکیو اہلکار کشتیوں میں گشت کر رہے ہیں،محلقہ آبادیاں زیر آباد آ گئیں ہیں، مسلسل سائرن بجائے جا رہے ہیں۔
فیروز والہ
فیروز والہ میں دریائے راوی میں پانی کی سطح مزید بلند ہو گئی ہے ، فیروزوالہ گھروں گلیوں میں چھ چھ فٹ پانی کھڑا ہو گیا، شہریوں کا گھروں سے نکلنا مشکل ہوگیا ، پانی کے بہاؤ کی وجہ سے تین گھر مسمار جبکہ عوام کے جانور بھی پانی کی نظر ہوگے ۔فیروزوالہ کے علاقے فرخ آباد ، کامران پارک ، ملک پارک ، شیر بنگال کالونی سمیت متعدد علاقے زیر آب آ گئے ہیں۔
ننکانہ صاحب
دریائے راوی میں ہیڈبلوکی کے مقام پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہاہے ، ہیڈ بلوکی میں پانی کی آمد 1لاکھ 16ہزار 335 کیوسک اور اخراج 1لاکھ 4ہزار 400 کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے ، ہیڈ بلوکی میں اونچے درجے کا سیلاب ہے ، ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا۔
دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا
دریائے ستلج میں پانی کے بہاؤ میں کمی نہیں آئی ہے اب بھی دو لاکھ 61 ہزار کیوسک کا ریلا دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام سے گزر رہاہے ،قصور کے 32 دیہات زیر آب آ چکے ہیں، 15 کلومیٹر کے علاقے میں 82 گاوں ہیں جن میں سے 32 زیر آبا ہیں، زرعی زمین مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے ،لوگوں کی نقل مکانی کیلئے مختلف مقامات پر 18 کیمپس لگائے گئے ہیں، ریسکیو حکام ، فوج اور پولیس کے جوان کشتیوں کی مدد سے شہریوں کو ریسکیو کر رہے ہیں، ریلیف کیمپس لگا دیئے گئے ہیں جہاں شہریوں کو طبی سہولت دی جارہی ہے ۔کھانے کی قلت کا بھی سامنا ہے ۔
سیالکوٹ
سیالکوٹ میں پلہوں نالہ ہے جہاں سے پانی باقی علاقوں جا رہا تھا لیکن اب اس میں ٹھہراؤ دیکھنے میں آیا ہے ، یہ تمام نشیبی علاقے ہیں جہاں دھان کی کھڑی فصل موجود ہے ، جو کہ مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں،سیالکوٹ میں تین روز سے بجلی ، پانی اور گیس نہیں ہے ، 40 کے قریب دیہاتوں میں چند لوگ صرف اپنے گھروں کی رکھوالی کیلئے موجود ہیں۔ ہیڈ مرالہ کے مقام پر ایک لاکھ 64 ہزار کیوسک کا پانی کا بہاؤ ہے ، لو گ کہتے ہیں انتظامیہ کہیں دکھائی نہیں دے رہی۔
دوسری جانب بہاولپور میں ایمپریس برج کے مقام پر دریائے ستلج میں پانی کی مقدار میں اضافہ ہوگیا ہے، ساتھ ساتھ پانی کا ریلا متعدد آبادیوں میں داخل ہوگیا۔ بہاولپور کے قریب دریائے ستلج میں پانی کی سطح بلند ہو چکی ہے ، پانی کے بہاو میں روانی اور زمینی کٹاو جاری ہے ، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 کے حفاظتی اقدامات کیئے جارہے ہیں، بستی یوسف والا، احمد والا میں عارغی بند ٹوٹنے سے پانی ریہائشی علاقوں میں داخل ہو گیا ۔






















