الاسکا کے فوجی اڈے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر یپوٹن کی ملاقات نے عالمی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سرخ ٹائی میں ملبوس ٹرمپ ریڈ کارپٹ پر کھڑے ہو کر پیوٹن کا انتظار کرتے رہے۔ روسی صدر کے قریب آنے پر ٹرمپ نے تالیاں بجا کر استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے سیاہ سوٹ میں شاندار مصافحہ کیا اور ریڈ کارپٹ پر ساتھ ساتھ چلتے ہوئے عوام کا ہاتھ ہلا کر جواب دیا۔
اس موقع پر امریکی فوجی طیارہ اوپر سے پرواز کرتا ہوا گزرا تو ٹرمپ نے مختصر سلام کیا جبکہ پیوٹن نے صحافیوں کے شور پر اشارہ کیا کہ وہ کچھ سن نہیں پا رہے۔
دونوں رہنما خوشگوار موڈ میں بات چیت کرتے ہوئے "Alaska 2025" لکھے رائزر پر کھڑے ہوئے، جس نے اس ملاقات کو ایک علامتی پہچان دے دی۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان پہلے سے طے شدہ ون آن ون ملاقات کا فارمیٹ بدل دیا گیا۔ملاقات کا فارمیٹ تین سے تین میں تبدیل ہو ا،صدر ٹرمپ کے ساتھ اس ملاقات میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف بھی شریک ہوں گے، روسی صدر کے ہمراہ ان کے اعلیٰ حکام ہوں گے۔
ملاقات کے بعد دوپہر کے کھانے میں امریکی کابینہ کے دیگر اہم ارکان بھی شریک ہوں گے، جن میں وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ، وزیرِ تجارت ہاورڈ لوٹنک، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اور صدر ٹرمپ کی چیف آف اسٹاف سوسی وائلز شامل ہیں۔
خیال رہے کہ امریکی نائب صدر ڈی جے وینس صدر ٹرمپ کے ساتھ الاسکا نہیں آئے کیونکہ سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے صدر اور نائب صدر عموماً ایک ساتھ سفر نہیں کرتے۔ اس بنا پر وہ ملاقات میں شریک نہیں ہوں گے۔






















