پیپلزپارٹی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کی درخواست پر پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے گورنر خیبرپختونخوا کو مخصوص نشستوں پر حلف برداری کیلئے نامزد کردیا۔ امیر مقام کا کہنا ہے کہ آج ہی حلف برداری کی کوشش کررہے ہیں۔
خیبرپختونخوا اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر منتخب ممبران کی حلف برداری نہ ہونے کے معاملے پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے درخواست پر پشاور ہائیکورٹ نے اعلامیہ جاری کردیا۔ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے گورنر خیبر پختونخوا کو حلف برداری کیلئے نامزد کردیا۔
اراکین کی حلف برداری کیلئے پہلے کل صبح 9 بجے کا وقت مقرر کیا گیا تھا تاہم اسے تبدیل کردیا گیا۔ امیر مقام کا کہنا ہے کہ مخصوص نشستوں پر کامیاب امیدواروں کی حلف برداری کی تقریب آج ہی منعقد کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جس کیلئے تیاریاں کی جارہی ہیں۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کا آج ہونیوالا اجلاس مخصوص نشستوں پر کامیاب امیدواروں کی حلف برداری کے بغیر ہی کورم پورا نہ ہونے کے باعث ملتوی کردیا گیا۔
اپوزیشن جماعتوں نے مخصوص نشستوں پر حلف برداری کیلئے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی، درخواست رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ کے پاس جمع کرائی گئی۔
پیپلزپارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مخصوص نشستوں پر کے پی اسمبلی میں منتخب اراکین سے حلف نہیں لیا گیا، چیف جسٹس حلف برداری کیلئے کسی کو نامزد کریں۔
اپوزیشن کی جانب سے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کو ایک خط بھی لکھا گیا ہے۔ وکیل ن لیگ رحمان اللہ شاہ ایڈووکیٹ نے خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ الیکشن کمیشن خط کے تحت چیف جسٹس حلف برداری کیلئے کسی کو نامزد کریں، الیکشن کمیشن آرٹیکل 255 ٹو کے تحت چیف جسٹس کو پہلے ہی خط بھیج چکا ہے، آج اجلاس کے باوجود منتخب ارکان سے حلف نہیں لیا گیا، کل سینیٹ الیکشن ہے۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بھی خیبرپختونخوا اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر حلف برداری نہ ہونے کے معاملے پر پشاور ہائیکورٹ کو خط لکھ دیا۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ سینیٹ انتخابات اور حلف برداری آئینی تقاضے ہیں، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ سے درخواست ہے کہ سینیٹ انتخابات ممکن بنائے جائیں۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ، آرٹیکل 255 (2) کے تحت حلف برداری کیلئے کسی کا انتخاب کریں، نامزد شخصیت خیبرپختونخوا اسمبلی کے منتخب اراکین کو مخصوص نشستوں پر حلف لے۔
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں 25 مخصوص نشستوں کے اراکین نے آج حلف اٹھانا تھا، جن میں 21 خواتین اور 4 اقلیتی ارکان شامل ہیں، جمعیت علمائے اسلام اور مسلم لیگ (ن) کے 7، 7، پیپلز پارٹی کے 4، اے این پی کے 2 اور پی ٹی آئی پی کے ایک رکن کو حلف اٹھانا تھا۔
خیال رہے کہ پچیس اراکین کے حلف اٹھاتے ہی خیبر پختونخوا اسمبلی کا ایوان مکمل ہوجائے گا، حلف اٹھانے کے بعد نئے ممبران سینٹ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے حقدار ہوجائیں گے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کی جانب سے خیبرپختونخوا اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر ممبران کی بحالی کے بعد اپوزیشن کی تعداد بڑھ گئی، جس سے ایوان میں نمبر گیم بھی تبدیل ہوچکا ہے۔ صوبائی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کا اعلامیہ جاری ہونے کے بعد اپوزیشن کی تعداد 52 ہوگئی تھی۔



















