اسلام آباد ہائیکورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی درخواستیں 11 مارچ کو مقرر کرنے کی ہدایت کر دی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے طبی بنیادوں پر سزا معطل کر کے ضمانت پر رہا کرنے کی استدعا کر رکھی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد اعظم خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سزا معطلی درخواستوں کی جلد سماعت کی متفرق درخواستوں پر سماعت کی۔ بیرسٹر سلمان صفدر عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران بڑی تعداد میں پی ٹی آئی کے حامی وکلا کے روسٹرم پر آنے پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا یہ کیا طریقہ ہے؟ کیا آپ عدالت پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں؟ بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیے کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا مسئلہ ہے، انہیں آنکھ کے علاج کے لیے اسپتال لایا جا رہا ہے۔ اپیل پر سماعت نہیں مانگ رہا ، ایک سال سے سزا معطلی کی درخواستیں زیر التوا ہیں۔
سلمان صفدر نے کہا کہ رجسٹرار آفس ہماری جلد سماعت کی درخواستیں مقرر نہیں کر رہا۔ پانچ بار متفرق درخواستیں دائر کی گئی ہیں، ہماری استدعا ہے کہ ہمارے کیسز سن لیں۔ بشری بی بی خاتون ہیں، ایک سال سے کیس سے زیر التوا ہے۔ اب یہ معاملہ جلدی سماعت کا بھی ہے۔ پیر کے لئے مقرر کر دیں یا آئندہ ہفتے کی کوئی بھی تاریخ دے دیں۔
عدالت نے بانی اور بشری بی بی کی سزا معطلی درخواستیں جلد سننے کی استدعا منظور کرتے ہوئے گیارہ مارچ کو کیس فکس کرنے کی ہدایت کر دی۔






















