پنجاب اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے پنجاب کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹینس ایکٹ 2025 کی منظوری دے دی جس کے تحت "پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس" کے قیام کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
ایکٹ متن کے مطابق اس فورس کی سربراہی ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) رینک کے حاضر سروس یا ریٹائرڈ فوجی افسر کے ہاتھ میں ہوگی جبکہ نئی فورس کو پولیس کی طرح مکمل تفتیش اور گرفتاری کے اختیارات حاصل ہوں گے۔
اس کے علاوہ فورس کے افسران بغیر وارنٹ تلاشی اور گرفتاری کر سکیں گے۔
فورس کا خصوصی فوکس تعلیمی اداروں کے آس پاس منشیات کی روک تھام پر ہوگا۔
ایکٹ کے تحت پنجاب فارنزک ایجنسی کی رپورٹس عدالتوں میں قابل قبول شہادت ہوں گی جبکہ منشیات سے متعلق مشتبہ اثاثے ضبط کیے جا سکیں گے جنہیں نیلام کرکے ایک خفیہ فنڈ میں شامل کیا جائے گا جو منشیات کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال ہوگا۔
حکومت کو منشیات کی فہرست میں ترمیم اور قواعد و ضوابط بنانے کا مکمل اختیار ہوگا۔
ہر ضلع اور تحصیل میں نارکوٹکس کنٹرول اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے جبکہ صوبائی سطح پر ڈیٹا مرتب کرنے اور وفاقی و دیگر صوبائی اداروں کے ساتھ معلومات کے تبادلے کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
قانون کے مطابق مشتبہ افراد یا اثاثوں کی شناخت میں معمولی غلطی کی صورت میں نوٹس یا آرڈر کالعدم نہیں ہوگا۔
فورس کے اہلکاروں کے لیے خصوصی یونیفارم تجویز کیا گیا ہے اور نیک نیتی سے کیے گئے اقدامات پر کوئی قانونی کارروائی یا مقدمہ نہیں ہوگا۔
تاہم، غلط ایف آئی آر درج کرنے والے اہلکاروں کو سزا دی جائے گی۔
قانون میں منشیات اور ادویات کی بین الاقوامی فہرست بھی شامل کی گئی ہے۔
سابقہ انسداد منشیات قوانین کے تحت کیے گئے اقدامات نئے قانون کے تحت جائز تصور ہوں گے۔
یہ بل کابینہ اور اسٹینڈنگ کمیٹی کی منظوری کے بعد اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔



















