فنانس ایکٹ 2025 میں شامل سیکشن 37 اے کے تحت ایف بی آر کو حاصل گرفتاری کے اختیارات پر تاجر برادری میں اختلافات سامنے آگئے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے مذاکرات کے بعد لاہور چیمبر کے سوا تمام چیمبرز اور ایف پی سی سی آئی نے 19 جولائی کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا جبکہ لاہور چیمبر کے صدر میاں ابو زر شاد نے گرفتاری کا قانون مؤخر نہ ہونے پر مذاکرات سے واک آؤٹ کرتے ہوئے ہڑتال پر قائم رہنے کا اعلان کیا۔
ملاقات میں تاجروں نے بجٹ سے متعلق خدشات اور تجاویز کھل کر پیش کیں جس پر حکومت نے ہارون اختر خان کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا جو 30 دن میں متفقہ اور قابلِ عمل سفارشات وزیر اعظم کو پیش کرے گی۔
ایف پی سی سی آئی اور دیگر چیمبرز نے ڈیجیٹل انوائسنگ، ای-بلٹی سمیت دیگر قوانین پر بھی تحفظات ظاہر کیے تاہم ہڑتال مؤخر کر دی۔
حکومتی معاشی ٹیم کا کہنا تھا کہ قانون آئی ایم ایف معاہدے کا تقاضا ہے اور گرفتاری صرف جعلی رسیدیں تیار کرنے والوں اور سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث افراد تک محدود رہے گی۔






















