پاکستان حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام پر اربوں روپے سالانہ خرچ کرنے کے باوجود 100 فیصد کوریج کا ہدف حاصل نہ ہو سکا۔
پاکستان حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام پر اربوں روپے کے سالانہ اخراجات کے باوجود کوئی بھی صوبہ 12 بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسی نیشن کا 100فیصد ہدف حاصل نہ کرسکا۔
دستیاب اعدادوشمار کے مطابق کارکردگی کی دوڑ میں 90 فیصد کوریج کے ساتھ اسلام آباد اور پنجاب پہلے نمبر پر ہے، 84 فیصد کوریج کے ساتھ سندھ دوسرے، 79 فیصد کے ساتھ خیبرپختونخوا تیسرے اور 54 فیصد کوریج کے ساتھ بلوچستان کا چوتھا نمبر ہے۔
ڈی جی امیونائزیشن ڈاکٹر صوفیہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حفاظتی ٹیکا جات پروگرام کی کوریج میں بتدریج بہتری آرہی ہے بڑے بڑے ممالک بھی 100 فیصد تک نہیں پہنچ سکے لیکن ہم 95 فیصد یہ اس سے زیادہ ضرور پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ کئی سال پہلے کی بات کریں تو ہم 54فیصد تک فال کرتے تھے۔
ڈی ایچ او اسلام آباد ڈاکٹر راشدہ سید کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں حالات بہت اچھے ہیں ، ہماری ویکسینیشن کی 90 فیصد سے زیادہ نتائج ہیں۔ہماری بہت پولٹیکل سپورٹ ہے۔اسطرح ہم ایک دن سو فیصد تک پہنچ جائیں گے
وزیر مملکت برائے صحت مختار بھرتھ کے مطابق مجموعی قوت مدافعت بڑھانے کیلئے مسلسل کوششیں جاری رکھنا ہوں گی۔ پنجاب میں بے شک 90 فیصد تک کوریج ہے لیکن باقی صوبے میں شرح بہت کم ہے۔ سندھ ابھی کافی کوشش کررہا ہے اپنی شرح بڑھانے کی لیکن جب تک یہ نوے فیصد تک نہ ہوجائے بیماریوں پر قابو پانا ناممکن ہوگا۔
عالمی اداروں نے بھی حالیہ رپورٹ میں ویکسین کوریج کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے دیگر ممالک سے پیچھے رہ جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔






















