اسلام آباد لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کے اجرا کے بعد قومی اسمبلی میں صورتحال متنازع ہو گئی، جہاں حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی آمنے سامنے آ گئی ۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے صدرِ مملکت کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ہونے پر شدید اعتراضات اٹھائے اور ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ کر دیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نوید قمر نے سوال اٹھایا کہ صدرِ مملکت کے دستخط کے بغیر آرڈیننس کیسے جاری کیا گیا اور ایوان کے اجلاس کے روز اس اقدام کا مقصد کیا تھا؟ انہوں نے اس دن کو پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کا دوبارہ التواء، امیدواروں کے لاکھوں ڈوب گئے
پیپلز پارٹی کی رکن شرمیلا فاروقی نے ایوان کے باہر گفتگو کرتے ہوئے آرڈیننس کو غیر آئینی قرار دیا اور کہا کہ اگر آرڈیننس جاری کرنا ہی تھا تو صدرِ مملکت کے دستخط کے بعد کیا جاتا، صدر کی مرضی کے بغیر اسلام آباد بلدیاتی آرڈیننس جاری ہونا ناقابلِ قبول ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ معاملہ اسلام آباد لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کا نہیں بلکہ ایکسپورٹ پروسیسنگ زون آرڈیننس کا ہے، جس پر حکومت نے اعتماد میں نہیں لیا اور بعد ازاں غلطی کا اعتراف بھی کیا گیا ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر خبریں چل رہی ہیں، جنہیں چیک کیا جا رہا ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اجلاس کے دوران اعلان کیا کہ 14 جنوری کو ایوان میں قائد حزبِ اختلاف کی تقرری کے عمل کا آغاز کیا جائے گا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس منگل کی صبح 11 بجے دوبارہ ہوگا۔
عبدالقادر پٹیل کا اس حوالے سے کہناتھا کہ آرڈیننس کی روایت ویسے ہی اچھی نہیں ہے لیکن اگر آرڈیننس جاری کرنے کی بہت جلدی بھی تھی تو اسے طریقہ کار کے تحت لایا جاتا اور صدر سے منظوری لیتے لیکن شائد تاریخ کا پہلا آرڈیننس ہو گا جو صدر کے دستخط کے بغیر ہی ہو گیا اور وضاحت یہ دی گئی ہے کہ غلطی ہو گئی ہے ۔ یہ غلطی نہیں ہے ۔






















