غیرقانونی کال سینٹرز سے مبینہ ملی بھگت اور بھتہ وصول کرنے والے 13 اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج کرلیے گئے ہیں، ایف آئی اے نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی آئی ٹی کو آگاہ کردیا۔۔بتایا گیا کہ دوسو اکہتر اہلکاروں کو احتساب کے اندرونی میکانزم کے تحت سزائیں دی جاچکی ہیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کے اجلاس میں غیر قانونی کال سینٹرز، این سی سی آئی اے افسران کے مبینہ چھاپوں، ملی بھگت اور معاملات نمٹانے کے الزامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں ایف آئی اے، اور وزارتِ داخلہ کے حکام نے بریفنگ دی۔
ایف آئی اے حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ غیر قانونی کال سینٹرز سے مبینہ ملی بھگت پر 13 اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے۔ ان 13 اہلکاروں نے مختلف کال سینٹرز سے بھتہ وصول کیا، جبکہ ایک سب انسپکٹر سے لاکھوں روپے کی ریکوری بھی کی گئی ہے۔ حکام نے بتایا کہ رواں سال ایف آئی اے کے اندرونی احتساب کے تحت دوسواکہتر اہلکاروں کو سزائیں دی جا چکی ہیں۔
وزارتِ داخلہ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ این سی سی آئی اے افسران کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اور تحقیقات مکمل ہونے سے قبل حتمی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں کہ کون کون ملوث ہے ۔ اس موقع پر سینیٹر پرویز رشید نے ایف آئی اے کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے کی ساکھ ایک سوالیہ نشان بن چکی ہے اور پوری دنیا کو پاکستان میں موجود کال سینٹرز کے ساتھ مسئلہ ہے۔
چیئرپرسن کمیٹی نے بھی ریمارکس دیے کہ ایف آئی اے بطور ادارہ اپنی ساکھ کھو چکا ہے۔وزارتِ آئی ٹی حکام نے وضاحت کی کہ پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کال سینٹرز کی فہرستیں مرتب کرتا ہے اور یہ تاثر غلط ہے کہ تمام کال سینٹرز غیر قانونی ہیں، ہزاروں کال سینٹرز رجسٹرڈ ہیں۔





















