کراچی کی ایک عدالت نے فلمساز جمشید محمود عرف جامی کو ہتک عزت کے مقدمے میں مجرم قرار دیتے ہوئے دو برس قید بامشقت اور دس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔
جمشید محمود پر الزام تھا کہ 15 فروری 2019 کو انھوں نے اپنے فیس بک پیج پر ایک خط شائع کیا تھا جس میں ریپ کے ایک واقعے کو بیان کرتے ہوئے میوزک ویڈیوز اور ٹیلی ویژن کمرشلز بنانے والے ایک ڈائریکٹر پر الزام لگایا گیا تھا۔
اگرچہ اس خط میں کسی کا نام واضح طور پر نہیں لیا گیا تھا تاہم بعد میں محمد سہیل جاوید نامی ہدایتکار نے جمشید محمود کے خلاف عدالت میں ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا جس کا فیصلہ منگل کو سنایا گیا۔ جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں جامی کو مزید ایک ماہ قید بامشقت بھگتنی ہوگی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں بتایا ہے کہ یہ ثابت ہو گیا کہ خط ملزم نے فیس بک پر عوامی طور پر پوسٹ کیا تھا اگرچہ پوسٹ میں مدعی کا نام براہ راست نہیں لیا گیا تھا لیکن اس میں اتنی شناخت کنندہ معلومات اور ذاتی خصوصیات موجود تھیں جو واضح طور پر ان کی طرف اشارہ کرتی تھیں جس سے دیکھنے والوں کے فوری ردعمل نے مدعی کا نام لیا۔
عدالت نے نوٹ کیا کہ ملزم کے دفاع میں شواہد کی کمی تھی اور وہ یہ واضح کرنے میں ناکام رہا کہ غلط شناخت کو تسلیم کرنے کے باوجود اس نے مواد کو دوبارہ پوسٹ کرنا اور ایسے تبصروں کا جواب دینا کیوں جاری رکھا جس نے ہتک عزت کو بڑھا دیا۔
عدالت نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ملزم نے جان بوجھ کر اور لاپرواہی سے مدعی کو بدنام کیا اور یہ الزام ہتک عزت کے کسی بھی استثنیٰ میں نہیں آتا تھا۔






















