ملک بھر کی تاجر برادری نے حکومت کو کاروبار بند کرنے کی دھمکی دے دی۔ کراچی، فیصل آباد و دیگر شہروں کے چیمبرز کے نمائندوں نے وزیراعظم سے سیکشن 37 اے اور 37 بی فوری منسوخ کرنے کا مطالبہ کردیا۔ صدر کراچی چیمبر جاوید بلوانی نے کہا کہ حکومت سنجیدگی سے اقدامات کرے ورنہ حالات مزید خراب ہوں گے۔
کراچی چیمبر کے نمائندوں نے لاہور، فیصل آباد و دیگر شہروں کے چیمبرز کے تاجر رہنماؤں کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سیکشن 37 اے اور 37 بی فوری طور پر منسوخ کی جائے، بصورت دیگر ملک بھر میں ہڑتال کریں گے۔
کراچی کی تاجر برادری کے ساتھ دیگر شہروں کے تاجر بھی کراچی چیمبر کے ساتھ ہم آواز ہوگئے۔ صحافیوں نے پوچھا کہ اگر حکومت نہ مانی تو آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہوگا؟، جس پر صدر کراچی چیمبر جاوید بلوانی نے کہا کہ صرف کراچی میں نہیں پورے ملک میں ایک ساتھ ہڑتال ہوگی۔
زبیر موتی والا نے کہا کہ ایف بی آر کو پولیس کے اختیارات دینا کسی صورت نہیں مانیں گے۔
لاہور چیمبر کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ لگ یہ رہا ہے کہ شہباز شریف کی حکومت گرانے کیلئے ایف بی آر کافی ہوگا۔
کراچی چیمبر نے وزیراعظم سے سیکشن 37 اے اور 37 بی فوری منسوخ کرنے کا مطالبہ کردیا۔ کے سی سی کے صدر نے کہا کہ ایف بی آر کو دیئے گئے وسیع اختیارات آمرانہ اقدام ہیں۔
کراچی کی تاجربرادری نے حکومت کو کاروبار بند کرنے کی دھمکی بھی دی۔ جاوید بلوانی نے کہا کہ چیک اینڈ بیلنس کے بغیر گرفتاری کا اختیار ہراسانی کا سبب بنے گا، افسران اختیارات کو ذاتی مفادات کیلئے استعمال کرسکتے ہیں، ایماندار ٹیکس دہندگان بلیک میلنگ کا شکار ہوسکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بجٹ سے پہلے مشاورت نہ ہونا قابل افسوس ہے، حکومت سنجیدگی سے اقدامات کرے ورنہ حالات مزید خراب ہوں گے، 37 اے، بی کا قانون ایسا ہے کہ ایک بندہ کسی کا اکاؤنٹ بند کرسکتا ہے، وہ کسی بھی شخص کو گرفتار کرسکیں گے۔
جاوید بلوانی نے مزید کہا کہ ایف بی آر کے جتنے مقدمات ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہوتے ہیں 98 فیصد ٹیکس ادا کرنے والا جیت جاتا ہے، جو ایف بی آر کا نمائندہ جھوٹا کیس بناتا ہے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی، ان لوگوں کو پاور دی جارہی ہے جو جعلی مقدمات بناتے ہیں۔
صدر کے سی سی آئی کا کہنا تھا کہ اس وقت 25 سے 30 ایسوسی ایشن کے چیئرمینز کے ہمراہ یہاں موجود ہیں، ہم نے وہ فیصلہ کرنا ہے کہ جو ہر ایک کے حق میں ہو، ہم عزت کے ساتھ ٹیکس دینا چاہتے ہیں۔



















