وزارت خزانہ نے ماہانہ اقتصادی آؤٹ لک رپورٹ میں کہا ہے کہ 10 ماہ کے دوران بجٹ خسارہ 3689 ارب روپے رہا جبکہ حکومتی اخراجات 18 فیصد اضافے سے 12948 ارب تک پہنچ گئے۔
رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام اور کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا، حکومت نجکاری سمیت اسٹرکچرل اصلاحات جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔
زیرجائزہ عرصے کے دوران بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے 411ارب روپے تقسیم کئے گئے، مئی میں 18525افراد کو 98کروڑ 40لاکھ کے سود سے پاک قرض دیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق سیمنت اور دیگر شعبوں کی سرگرمیوں سے بڑی صنعتوں کی پیداوار بڑھانے کی توقع ہے۔ 11 ماہ کے دوران ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں 11ہزار136 ارب روپے رہیں۔ بلند ترسیلات زر اور برآمدات سے بیرونی ادائیگیوں کا کھاتا سرپلس رہا۔
وزارت خزانہ کے مطابق مئی میں 59ہزار 995 افراد روزگار کی غرض سے بیرون ملک گئے، ایران اور اسرائیل جنگ کی وجہ سے مہنگائی بڑھنے کے خدشات تھے۔ جون میں مہنگائی کی شرح 3 سے 4 فیصد رہنے کی توقع ہے۔






















